خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 39

خطبات طاہر جلد۳ 39 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء ہے اور بہت سے عیوب ڈھانپنے کا موجب بن جاتا ہے۔یہ ایک تو عام قانون ہے دوسرا ستاری میں ایک بالا رادہ قانون جاری ہے اور اس بالا رادہ قانون کے متعلق بہت سی تفاصیل حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے بیان فرمائی ہیں۔صفات باری تعالیٰ کا مضمون بہت وسیع اور دلچسپ ہے لیکن اس کا ایک اصولی پہلو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے ورنہ ہم صفات باری تعالیٰ کے مضمون کو سمجھ نہیں سکیں گے۔وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات لامحدود اور لامتناہی ہیں اور یہ ناممکن ہے غیر اللہ کے لئے کہ کامل طور پر خدا کی کسی صفت کا مظہر بن سکے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں کامل مظہر ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بشر کو جو استعدادیں بخشی ہیں ان استعدادوں کے منتہاء تک پہنچ گیا اور صفات باری تعالیٰ انسان میں ڈھل کر جو رنگ اختیار کرسکتی ہیں اس کو اس نے درجہ کمال تک پہنچا دیا۔پس آنحضرت ﷺ ان معنوں میں صفات باری کے مظہر اتم ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو استعدادیں عطا کیں اوّل وہ تمام بنی نوع انسان کی استعدادوں سے بڑھ کر تھیں اور جتنا بڑا برتن تھا اس کو بھرنے کے لئے اتنی بڑی محنت درکار تھی۔یہاں استعدادوں کے بڑھانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی لوگوں پر اس سے کم ذمہ داری عائد کی گئی۔آنحضرت مے کی استعدادوں کو بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ سارے بنی نوع انسان سے زیادہ محنت آپ کو کرنی پڑی۔سارے بنی نوع انسان سے زیادہ ذمہ داریاں آپ کی بڑھ گئیں کیونکہ جتنا بڑا برتن ہو اتنی ہی محنت اور کوشش سے بھرا جاتا ہے۔اور اس کے باوجود آنحضرت ﷺ نے اس کو درجہ کمال تک پہنچادیا اور لبالب بھر دیا اپنے وجود کو صفات باری تعالیٰ سے۔پس صفت باری کو اپنی ذات میں جاری کرنے کے لئے حضرت محمد مصطفی علی اللہ کے حوالے کے بغیر بات ہو ہی نہیں سکتی۔ہم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ یہ صفت بندہ میں آ کر کیا روپ دھارے گی۔پانی جس طرح برتن میں جا کر ایک شکل اختیار کرتا ہے وہ نمونہ کا برتن جس میں صفات باری تعالیٰ جلوہ گر ہوتی ہیں اور ایک خاص شکل اختیار کرتی ہیں وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات ہے۔پس آپ کی ذات کے حوالے کے بغیر صفات باری تعالیٰ کا کوئی مضمون بیان ہو ہی نہیں سکتا۔آنحضرت علی ستاری کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں مسند احمد بن حنبل کی حدیث ہے حضرت یعلی روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: