خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 391 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 391

خطبات طاہر جلد ۳ 391 خطبہ جمعہ ۲۰ / جولائی ۱۹۸۴ء کر رہے ہیں اور ہمیں جواب کی اجازت نہیں۔حضور اکرم ﷺ کی سنت کو بگاڑ رہے ہیں اور دنیا کے سامنے نہایت بھیا نک نقشہ پیش کر رہے ہیں اور ہمیں جواب کی اجازت نہیں۔ٹھیک ہے جہاں بس چلتا ہے جواب کی اجازت نہ دیں لیکن جہاں ہمارا بس چلے گا ہم بڑی قوت اور بڑی فہم کے ساتھ ، حکمت کے ساتھ شرافت کے دائرے میں رہتے ہوئے کثرت سے جواب دیں گے۔اس لئے احمدی کا فرض ہے کہ انفرادی طور پر بھی وہ جوابی کاروائی کے لئے تیار ہو جائے اور جب لٹریچر مہیا کیا جائے تو اس کی تقسیم میں بھی بھر پور حصہ لے۔ایک پمفلٹ یہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ والسلام اور احمدیت کے خلاف شائع کریں تو دس سو نہیں تو دس پمفلٹ تو ضرور سر دست شائع کیا جائے گا جواب میں اور پھر جب خدا توفیق بڑھائے گا تو پھر ایک کے جواب میں سو بھی ہم شائع کرنے لگیں گے انشاء اللہ تعالی۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: ایک اور نہایت ہی درد ناک اور بھیانک تازہ ظلم کی اطلاع آئی ہے۔اس سلسلہ میں میں احباب جماعت کو دوبارہ دعاؤں کی طرف متوجہ کرتا ہوں اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے بہت دعا کریں۔پہلے تو انہوں نے باجوہ صاحب (چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب ) اور مولوی خورشید صاحب ( مولوی حکیم خورشید احمد صاحب) وغیرہ کے کیس میں ایک بالکل جھوٹا اور فرضی من گھڑت کیس ان کے خلاف بنالیا اور کہا کہ یہ بوڑھے بیچارے اور بیمار یہ ایک مولوی کو اغوا کر رہے تھے اس وقت پکڑے گئے اور جب دنیا میں اس کے خلاف احتجاج ہوا تو ایک گند دوسرے گند پر مائل کر دیتا ہے ایک جھوٹ دوسرے جھوٹ کی انگیخت کر دیتا ہے۔انہوں نے اس ظلم کے اوپر مزید ظلم یہ کیا کہ وہ جو دو نوجوان پکڑے ہوئے تھے ان پر اتنے دردناک اور ہولناک مظالم کئے ہیں پولیس نے کہ ان کے تصور سے بھی آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایسی بھیانک ایسی بے حیائی کے ساتھ ان پر ظلم کیا گیا ہے کہ اسلام کے نام پر جھوٹ اگلوانے کے لئے اس قدر مظالم ! تعجب ہے کہ ان کو کوئی خوف ہی نہیں ہے کہ ہم نے ایک خدا کو جان بھی دینی ہے کہ نہیں۔اس اطلاع کے متعلق تو ہدایت دے دی ہیں کہ ساری دنیا میں اس واقعہ کو مشتہر کرنا چاہئے۔اور سزا یہ دے رہے تھے کہ ان بڑھوں کو شامل کرو اور تحریر لکھ کے دو ہمیں کہ تم بھی اغوا کرنا چاہتے تھے اور وہ دونوں بھی اغوا کروانا چاہتے تھے اور ان کی ہدایت پر تم اغوا کر وار ہے تھے تا کہ دنیا سے جو احتجاج