خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد ۳ 390 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء قُولُوا انْظُرْ نَا ( البقرہ: ۱۰۵) جو قرآن کریم میں حکم آتا ہے راعنا منہ بگاڑ کر نہ کہا کرو یہ کس طرف اشارہ ہے؟ یہ تو نہیں تھا کہ رسول کریم ﷺ کو علم نہیں ہوتا تھا کہ کیا ہورہا ہے ؟ گفتگو ہوتی تھی، مجالس ہوتی تھیں ، یہود آتے تھے کئی قسم کے سوال کرتے تھے، جواب دیتے تھے۔تو رسول اللہ و تبلیغ کرسکتا ہے یہودی نعوذ باللہ من ذالک اور آپ کو تبلیغ نہیں ہو سکتی۔یہ کون سا قرآن کریم نکالا ہے نیا؟ اور پھر آنحضرت علیہ تبلیغ کرتے تھے اور پھر جواب سنتے تھے اور نئی شریعت یہ ہے کہ تمہیں اگر تبلیغ کی جائے گی تو جواب کی اجازت نہیں ہوگی ورنہ تبلیغ ہی نہیں کی جائے گی۔اگر نہیں کی جائے گی تو غیر شرعی طور پر باقی سب مسلمانوں کا حق تم نے چھین لیا، شریعت اسلامیہ کے مخالف حق ان سے چھینا اور اگر ہمیں جواب کی اجازت نہیں تو شریعت اسلامیہ کے مخالف ہمارا حق چھین لیا۔جس پہلو سے اس کا تجزیہ کریں ہر پہلو احمقانہ ہے ایک بھی عقل والا پہلو اس میں نہیں۔یہی وہ موقع ہے جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے آلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدُ (ھود: ۷۹) کہ کیا ہو گیا ہے اے قوم تمہیں، کیا ایک بھی عقل والا تم میں باقی نہیں رہا ؟ غور کرو تم کہاں پہنچ گئے ہو ہر بات کو تم نے الٹ کر دیا ہے، ہر منطقی نتیجے سے محروم رہ گئے ہو اور علم نہیں ہو رہا تمہیں کہ کہاں پہنچا دے گی تمہیں یہ منطق ، تمہارے دلائل تمہیں کس طرف دھکیل کے لے کر جارہے ہیں۔بس اب جو وائٹ پیپر ہے اس کا میں نے ذکر کیا کہ تفصیل سے میں بعد میں بتاؤں گا اس وائٹ پیپر میں تو یہی شکل بنتی ہے کہ ہماری شریعت کے مطابق ہم تمہارے اوپر جتنے چاہیں الزام لگاتے چلے جائیں، یہ تبلیغ ہے ہماری ہم تمہیں تبلیغ کر رہے ہیں لیکن تمہیں جواب کی اجازت نہیں۔یہ سنت تو قرآن سے ثابت ہوتا ہے کفار کی تھی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تو نہیں تھی۔وہ یہ کہتے تھے کہ اپنی باتیں کر لیا کرو اور جب وہ قرآن پڑھنے لگے آگے سے جب وہ جواب دینے لگے تو شور مچا دیا کرو کہ یہ نہیں ہم کرنے دیں گے۔تو سنتیں بتا رہی ہیں کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے؟ اپنے پاؤں پر تو کلہاڑی نہ ماریں اگر ہمیں غیر مسلم سمجھتے ہیں تو آپ تو مسلم بنیں۔یہ میری نصیحت ہے آپ کو لیکن اگر نہیں بنتے اور لازماً جبر کا فیصلہ کر لیا ہے۔تو پھر قرآن بیچارے کو الزام تراشی سے محفوظ رکھیں۔آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ پر تو حملہ نہ کریں۔کھل کر کہیں کہ ہم ایک نئی شریعت کے تابع ہیں جس کا نہ قرآن سے تعلق ہے نہ سنت سے کیسٹ کی ریکارڈنگ واضح نہیں ہے۔۔۔۔کہ قر آن پر آپ حملہ