خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 392
خطبات طاہر جلد ۳ 392 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء آرہے ہیں ان کو پھر وہ تحریر شائع کر کے دکھا دیں کہ یہ دیکھ لو حریر اور ایک ایک رات میں بعض دفعہ پانچ پانچ دفعہ وہ بے ہوش ہوئے ماریں کھا کھا کر اور ننگے بدن کر کے ان کو گاؤں والوں کو دعوت دی گئی کہ آئیں ان کو دیکھیں اور انتہائی گندی مغلظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اور ان کے والدین اور ان کے عزیزوں کے خلاف جو گندی گالیاں سوچی جاسکتیں ہیں وہ دی گئیں اور پھر بلیڈوں سے ان کو چیرا گیا اور ان کے اوپر مرچیں چھینکی گئیں ، الٹے لٹکائے گئے یہاں تک کہ اسی حالت میں وہ بے ہوش ہوئے۔ہر دکھ جو آپ سوچ سکتے ہیں وہ ان کو دیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو استقامت عطا فرمائی اور باجوہ صاحب اور ان بیچارے مظلوم کے متعلق انہوں نے آخر وقت تک نہیں بیان دیا اور جب یہ دیکھا کہ اب ہمارے پاس چارہ کوئی نہیں رہا اس سے زیادہ تو پھر موت رہ گئی تھی باقی تو اب اس کیس کو پولیس نے سفارش کر دی ہے کہ مارشل لاء میں آزمایا جائے کیونکہ سول ہتھیار جو ہمارے پاس تھے وہ تو ہم نے استعمال کر لئے یہ تو ہتھکنڈے ہیں نا سول Civil ان سے بڑھ کر تو سول Civil کے پاس ہتھکنڈا کوئی نہیں ہے۔ہاں مارشل لاء جس کو چاہے موت کی سزا دے دے تو اب وہ کیس مارشل لاء میں بھجوایا جارہا ہے تو دعا کریں ان لوگوں سے واسطہ ہے اس وقت اسلام کو اور اسلام پر یہ ہیں ظلم کرنے والے انتہائی خوف ناک۔اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور باز رکھے کیونکہ یہ معاملہ تو اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کے بعد پھر خدا کی طرف سے سوائے اس کے کہ ایسی قوموں کی ہلاکت کی تقدیر لکھ دی جائے پھر اور کچھ رہتا نہیں باقی۔اپنی بے حیائی میں اور ظلم اور سفا کی میں اور سچائی کو جھٹلانے میں یہ ایک حد سے آگے نکل چکے ہیں۔بظاہر تو واپسی کی صورت نظر نہیں آرہی مجھے لیکن دعا کرنی چاہئے ہمارا فرض ہے، ہمارا اپنا وطن ہے، ہمیں اس سے محبت اور پیار ہے کہ چند شریروں کی وجہ سے سارے وطن پر عذاب آجائے اور مصیبت پڑے اس کا بھی تو ہمیں ہی دکھ پہنچنا ہے۔ان کو کہاں سے اس کا دکھ ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے یہ دعا کی تحریک جو کر رہا ہوں خاص طور پر یا درکھیں۔راتوں کو اٹھیں تہجد میں ، دن رات ان بھائیوں کے درد کی حالت کو سوچ کر اور اپنی اس نعمت کی حالت کو سوچ کر کہ آپ آرام میں پھر رہے ہیں خاص طور پر ان کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔