خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد ۳ 326 خطبہ جمعہ ۲۲ / جون ۱۹۸۴ء گے اور وہ دکھوں اور مصیبتوں کی رات بن جائے گی۔اس کے برعکس دوسرا معنی یہ تو ایک معنی کے دوشاخیں تھیں۔دوسرا معنیٰ اس کا یہ بنتا ہے کہ ایک طرف تو جرم کرنے والے خدا تعالیٰ کے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں اور اس تقدیر شر کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں جو ان کے لئے مقدر ہوتی ہے اور دوسری طرف دکھ اٹھانے والے یا غیروں کا دکھ محسوس کرنے والے بڑی گریہ وزاری کرتے ہیں راتوں کے وقت اور بعض راتیں جیسا کہ دنیا کی ہر زبان کے اشعار میں ذکر ملتا ہے اتنی بھاری اور اتنی بوجھل معلوم ہوتی ہیں کہ بے قراری کے ساتھ انسان اٹھ اٹھ کر دیکھتا ہے کہ کب صبح کی شفق طلوع ہوگی کب فجر پھوٹے گی؟ بیماروں کی حالت ایسی ہوتی ہے ایک ایک لمحہ انتظار کرتے ہیں کہ کب صبح کی خوش خبری ملے گی۔تو صبح کے ساتھ ایک سکون کا پہلو بھی ہے اور جرائم کے ختم ہونے کا پہلو بھی ہے۔چوروں اچکوں کے جو وقت ہیں وہ راتوں کے وقت ہوتے ہیں اور دن کے وقت ان کو پکڑنے کے وقت ہوتے ہیں۔تو وہ رات جو عرب میں اس وقت جاری ہوئی جب آنحضرت ﷺ کا زمانہ تھا اس میں یہ ساری کیفیات اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم: ۴۲) جہاں تک جرائم کا اور خدا تعالیٰ سے دوری کا تعلق ہے خشکی بھی گندی ہوگئی تھی اور تری بھی گندی ہوگئی یعنی مذاہب کی دنیا بھی تباہ ہو چکی تھی اور غیر مذہبی دنیا بھی تباہ ہو چکی تھی اور ایک طرف جرائم مطالبہ کر رہے تھے کہ خدا تعالیٰ اس دوسری تقدیر کو ظاہر کرے اور جرائم جو مطالبہ کرتے ہیں نئی تقدیر کا اس میں دونوں باتیں آجاتی ہیں۔اول یہ کہ جرائم زبان حال سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اب بہت ہو چکی ہے اب وقت بدل دے، اب مزید جرائم سے دنیا تباہ ہو جائے گی اور دوسری طرف جرائم زبان حال سے سزا کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے مقابل پر کچھ لوگ گریہ وزاری میں انتہا کر دیتے ہیں خدا کے حضور کہ اے خدا صبح کا منہ دکھا۔اس وقت آنحضرت ﷺ نے جو دعائیں کیں وہی دعا ئیں تھیں، جو خدا کے فضل کو کھینچ لانے کا موجب بنیں اور اس کے نتیجہ میں پھر شریعت کا سورج طلوع ہوا ہے۔پس لیلۃ کولیل کی بجائے ایک حرف کے اضافے سے حیرت انگیز وسعت عطا فرما دی قرآن کریم نے اور ایسی وسعت جو ہر قسم کے مضامین کو سمیٹ لیتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی رات میں سلام کا ذکر ہے امرالہی کے ساتھ اور یہ فرمایا