خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد ۳ 325 خطبہ جمعہ ۲۲ / جون ۱۹۸۴ء یعنی اس کے متقابل لفظ وہ نھار نہیں بلکہ یوم ہے اور اسی سے لیل اور لیلہ کا فرق سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے نھار تو عرف عام میں اسی دن کو کہتے ہیں جو سورج کے ساتھ چڑھا اور سورج کے ڈوبنے کے ساتھ ڈوب گیا اور بڑے وسیع عرصے یا اہم زمانے کے لئے نھار کا لفظ استعمال نہیں ہوتا۔چنانچہ قرآن کریم نے زمین و آسمان کی پیدائش کا یا اور بڑے اہم واقعات کا جہاں بھی ذکر فرمایا ہے وہاں یوم کا لفظ استعمال فرمایا ہے نھار کا لفظ کہیں استعمال نہیں کیا تو یوم ایک بہت ہی وسیع المعنی لفظ ہے، بہت بڑے زمانے پر بھی اطلاق پاتا ہے یہاں تک کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ پچاس ہزار سال کا بھی ایک یوم ہوتا ہے۔تو اس کا سورج کے چڑھنے یا ڈوبنے سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن زمانوں کے بعد جب سورج کا ذکر آئے گا تو مراد ہے عظیم الشان کامیابی، غیر معمولی خوش خبریاں ، بہت ہی حیرت انگیز بشارتوں کا دور تو جس طرح یوم ایک Metaphoric Figuer of Speach بن جاتا ہے، ایک استعارہ ہو جاتا ہے اسی طرح سورج بھی انہی معنوں میں ایک دوسرے مضمون کی طرف اشارہ کرنے والا لفظ ہے۔چنانچہ قرآن میں جب لیل کے بجائے لیلۃ کا لفظ استعمال فرمایا تو مراد یہ ہے کہ جس طرح بعض دن لمبے ہوتے ہیں اور خاص اہمیت رکھتے ہیں اسی طرح بعض راتیں بھی لمبی ہوا کرتی ہیں اور خاص اہمیت رکھتی ہیں۔راتوں کے اندر جو مضامین پائے جاتے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ایک ہے ظلم اور تاریکی اور دراصل تاریکی عرف عام میں جسے ہم ظلم کہتے ہیں یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔جب انسانی فطرت خدا کی روشنی سے دور ہو جاتی ہے تو وہ ظلم اور سفا کی پر آمادہ ہو جاتی ہے اور ایک ہے غم ، یہ بھی رات کے اندر مفہوم پایا جاتا ہے پس ظلم کے پہلو سے یعنی پہلے اندھیرے کے معنوں میں ہر قسم کے ظلم کے جرائم ، ہرقسم کی سفاکیاں اور ایک دوسرے پر تعدی کرنا یہ سارا مضمون لیلۃ کے تابع آجاتا ہے۔ایک ایسا لمبازمانہ تاریکی کا جس میں جرم اپنی انتہا کو پہنچ جائیں اور انسان انسان کو دکھ پہنچانے میں جس حد تک اسے توفیق ہے وہ اس توفیق کو حاصل کرلے، اپنی استطاعت کے درجہ کمال کو پہنچ جائے دکھ پہنچانے میں ، اس کے مقابل پر دکھ اٹھانے والوں کی بھی ایک رات ہوگی جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس کی حیثیت سے لمبی ہوگی۔اسی حیثیت سے گہری ہو جائے گی جتنا جرائم کرنے والے اپنے جرموں میں بڑھیں گے اسی نسبت سے ان جرموں کا نشانہ بننے والے غیر معمولی دکھ اٹھا رہے ہوں