خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 301
خطبات طاہر جلد۳ 301 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء چنانچہ پاکستان میں بعض نہایت کمزور جگہوں پر بھی ایسی جگہوں پر جہاں صرف ایک احمدی تھا اور وہ بھی تازہ ابھی چند ماہ پہلے ہوا تھا وہاں بھی اس نے صبر واستقامت کا ایسا حیرت انگیز نمونہ دکھایا ہے کہ سارے علاقے میں اس کی باتیں شروع ہو گئیں۔سرگودھا کے ایک علاقے میں ایک احمدی ہوا، چند ماہ پہلے وہ ربوہ آیا، مجلس سوال و جواب میں دلچسپی پیدا ہوئی ، اس نے قبول کر لیا اور کہنا تو یہ چاہئے کہ اللہ کے فرشتوں نے اس سعید فطرت کو مجبور کر کے احمدی بنا دیا۔اس قدر شدید اس کی مخالفت ہوئی سارے گاؤں کی طرف سے بائیکاٹ ہی نہیں بلکہ حملے کر کے اس کے گھر کی دیوار گرادی گئی، پانی بند کر دیا گیا، کھانے کے سارے راستے اس کے بند کر دیئے گئے ، بول چال اس کی بند ہوگئی اور جب احمدی اس کو باہر سے تسلی دلانے کے لئے گئے تو اس نے کہا تم کیا کہتے ہو مجھے تو اب ایمان کا مزہ آیا ہے۔تسلی کس بات کی میں تمہیں تسلی دلاتا ہوں کہ میری طرف سے کوئی خوف نہ کرو مجھے تو اب زندگی کا مزہ آنا شروع ہوا ہے کہ ایمان کی زندگی ہوتی کیا ہے۔پس جتنا لوگوں نے ڈرایا اتنا ہی زیادہ ایمان بڑھنا شروع ہوا اور یہ ایک جگہ کا واقعہ نہیں ہزار ہا ایسے واقعات پاکستان میں آج گزر رہے ہیں کہ جتنے خوف بڑھ رہے ہیں اتنا ایمان ترقی کرتا چلا جارہا ہے۔فرماتا ہے فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُو کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو ان خطرات میں سے اس حال میں لوٹے کہ ان کی جھولیاں خدا کے فضلوں سے بھری ہوئی تھیں اور اس کی نعمتیں اور فضل لوٹ کر وہاں سے لوٹے۔یہ عجیب قوم ہے کہ جہاں موت بنتی ہو جہاں دکھ تقسیم کر رہے ہوں وہاں سے فضل اور نعمتیں لے کر لوٹ رہی ہولَمْ يَمْسَسْهُمْ سُو ان کو برائی نہیں پہنچ سکی ، برائی کی لمس سے وہ محفوظ رکھے گئے۔یہاں سُوع کا لفظ بہت ہی حکمت کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔دکھ تو پہنچ جاتے ہیں مومن کو جیسا کہ قرآن کریم بارہا دوسری جگہ ذکر فرماتا ہے لیکن ان دکھوں کے پیچھے جو برائی مقدر ہوتی ہے وہ برائی نہیں پہنچتی۔پس سو سے دکھ کے نتیجہ کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے دکھ تو اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ لوگ مرتد ہو جائیں ، دکھ تو اس لئے دیئے جاتے ہیں کہ ان کے ایمان میں کمزوری آجائے اور خدا کا خوف چھوڑ کر وہ بندوں کا خوف شروع کر دیں۔جب ان سارے مصائب اور ساری تکلیفوں اور سب آزمائشوں کا نتیجہ بالکل برعکس نکل رہا ہو تو بجا ہے اس وقت یہ کہنالَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٍ کوئی برائی ان کو نہیں پہنچ سکی و اتَّبَعُوا رِضوان الله