خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد ۳ بہت بڑا اجر ہے۔300 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء چنانچہ آج پاکستان میں بعینہ یہی نقشہ نظر آ رہا ہے بلکہ کچھ اور بھی رنگ اس میں ایسے داخل ہوئے ہیں کہ عقل متعجب ہوتی ہے۔کچھ لوگ جو پہلے ثابت قدم تھے ان کو تو اللہ تعالیٰ نے اَحْسَنُوا کے مقام پر پہنچا دیا اور کچھ وہ لوگ جو پہلے کمزور تھے اور پیچھے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ کی خوش قسمت فہرست میں ان کے نام نہیں ہوں گے وہ بھی آگے بڑھے ہیں اور اس کثرت سے خط آتے ہیں حیرت اور تعجب کے اظہار پر مشتمل کہ ایسے ایسے لوگ ایسے ایسے نوجوان جن کو کبھی سوائے عید بقر عید کے مسجد میں دیکھا ہی نہیں گیا تھا اس کثرت سے مسجدوں میں آتے ہیں، اس کثرت سے مسجد میں بھر گئی ہیں کہ وہ جو پہلے بڑی نظر آیا کرتی تھیں اب چھوٹی دکھائی دینے لگی ہیں۔کل ہی ربوہ سے ایک خط ملا۔ایک محلے کے ہمارے ایک بزرگ ہیں ان کی طرف سے، انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ یہ مسجد جو بڑی کھلی تھی اور لوگ اس کے تھوڑے سے حصے میں سما جایا کرتے تھے اب جتنا زیادہ خوف پیدا کیا گیا ہے اور ڈرا کر خدا کی عبادت سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے اسی قوت کے ساتھ جذبۂ عبادت ابھرا ہے اور اس شان کے ساتھ ابھرا ہے کہ چھوٹے کیا اور بڑے کیا، جوان کیا اور بوڑھے کیا، سارے پانچوں وقت مسجدوں میں آتے ہیں بلکہ تہجد کے وقت بھی پہنچ رہے ہیں اور مسجد کا صحن بھر جاتا ہے اور جہاں جوتیاں رکھی جاتیں تھیں وہاں بھی لوگ سجدے کر رہے ہیں۔تو یہ وہ نظارہ ہے جس کا قرآن کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے ذکر فرمایا تھا۔کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی تصویر میں ان لوگوں سے مل رہی ہیں جن پر ہمارے خدا کے پیار کی نظریں پڑی تھیں۔الَّذِینَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا۔وہ لوگ جن کو لوگوں نے جا کر یہ ڈرایا اور کہا کہ دیکھو لوگ تو تمہارے خلاف اکھٹے ہو گئے ہیں پس ان کا خوف اختیار کر ولیکن وہ عجیب قوم ہے کہ خوف کی بجائے ان کا ایمان ترقی کر گیا وقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ انہوں نے کہا ہمارا اللہ ہمارے لئے بہت ہے وَنِعْمَ الْوَکیلُ اور اس کے سپر دہم سب کچھ کرتے ہیں جو سب سے بہتر سپر د داری کا حق ادا کرنے والا ہے۔