خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 302

خطبات طاہر جلد ۳ 302 خطبہ جمعہ ۸/ جون ۱۹۸۴ء اور وہ اللہ کی رضا کی پیروی کرتے رہے اور رضائے باری تعالیٰ کے حاصل کرنے والوں میں شمار ہوۓ وَاللهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ اور اللہ تعالیٰ بہت ہی بڑا فضل کرنے والا ہے۔لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر خوف اثر کر جاتا ہے جن کو برائی پہنچ جاتی ہے اور قرآن کریم ایک حقیقت اور سچائی کی کتاب ہے، محض فرضی دعاوی کرنے والی کتاب نہیں ہے جو کسی قوم کی تعریف میں رطب اللسان ہو تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر دے۔ایسی کامل کتاب ہے کہ کسی پہلو کو ، فطرت کے کسی پہلوکو، حقیقت کے کسی پہلو کونہیں چھوڑتی۔چنانچہ ان خوش نصیبوں کا ذکر کرنے کے بعد جو اللہ کے فضل سے اس وقت لکھوکھا جماعت پاکستان میں موجود ہیں ان چند بد قسمتوں کا بھی ذکر فرماتا ہے۔اِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاءَ یہ تو شیطان تھاجو تمہیں ڈرانے آیا تھا اور یہ اپنے جیسوں کو ڈراتا ہے اولیاء ہ اس کے جو ولی ہیں، اس کے جو دوست ہیں، جو اس کے ہم مزاج ہیں صرف ان کو ڈرا سکتا ہے۔اس آیت میں ایک بہت ہی لطیف اشارہ اس بات کی طرف کیا گیا ہے کہ ہر جماعت میں کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو جماعت کے معاندین کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اپنی فطرت کے لحاظ سے، اپنی اُٹھک بیٹھک کے لحاظ سے، اپنی طرز کلام کے لحاظ سے، اپنے قلبی جذبات کے لحاظ سے بہ نسبت مومنین کے اور ان کو مومنین کا اولیا کہنا غلط ہے۔وہ معاندین کے اولیا ہوتے ہیں ہمیشہ سے لیکن جب زلزلے آتے ہیں تو پھر چھان پھٹک ہوتی ہے، اس وقت جو معاندین کے اولیاء ہیں وہ ان سے جا ملتے ہیں اور جو مومنین حقہ ہیں ان کے متعلق پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ ان کا ایمان اور بھی ترقی کر جاتا ہے فرماتا ہے اِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَنُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ پس اب یہ فرق کرنے کا وقت آ گیا ہے جو شیطان کے دوست ہیں وہ خوف زدہ ہو جائیں گے اس کی آواز پر اور جو شیطان کے دوست نہیں ہیں اور سچا ایمان لانے والے ہیں وہ اور بھی زیادہ خدا کے خوف میں مبتلا کئے جائیں گے، اور بھی زیادہ خدا کے خوف کے سامنے ان کی گردنیں جھکیں گی اور ان کے دل لرزیں گے۔فرمایا پس اگر تم بھی مومن ہو خَافُونِ اِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ پھر مجھ سے ڈرو۔اس کے بعد مضمون بدل کر ان دونوں گروہوں کا ذکر فرماتا ہے یعنی شیاطین جو باہر سے حملہ کرتے ہیں اور وہ اولیاء جو مومنوں کی سوسائٹی کے اندر موجود ہوتے ہیں اور اس موقع پر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔