خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 290
خطبات طاہر جلد ۳ 290 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء دوں گی مجھے تو چین نہیں ملے گا چنانچہ باوجود اس کے کہ خاوند نے سارے خاندان کو شامل کیا ہوا تھا انہوں نے پھر بھی اپنا زیور بھجوا دیا۔ایک بچی نے معلوم ہوتا ہے کہ اپنا وہ سیٹ بھی بھجوادیا ہے جو اس کو بری میں ملا تھا اور وہ بھی بھجوا دیا ہے جو جہیز میں ملا تھا کیونکہ دو کمل سیٹ ہیں اور بڑی عاجزی کے ساتھ یہ عرض کرتے ہوئے کہ اس کو قبول فرمائیں اور میرے دل کی تسکین کا سامان کریں۔تو عجیب دنیا ہے یہ، کچھ لوگ ہیں جو ناحق لوگوں کے چھین کر اپنے ہاتھوں میں پہنتے ہیں اور لوگوں کی دولتوں کو اپنی گردنوں کے کڑے بنادیتے ہیں جو آخر طوق بننے والے ہیں لیکن ایسے بھی لوگ دنیا میں ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کو اپنے ہاتھوں کے زیور برے لگنے لگتے ہیں ، ان سے نفرت ہونے لگتی ہے، وہ اپنے گلوں کے ہارا تار دیتے ہیں خدا کی خاطر اور اس بات میں ان کو تسکین ملتی ہے کہ ہم خالی ہو گئے ہیں اپنے رب کے حضور۔اس جماعت کو دنیا کی کون طاقت مار سکتی ہے ! بڑا ہی جاہل ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ میں اٹھا ہوں اس دنیا میں اس جماعت کو تباہ کرنے کے لئے ، بڑے بڑے پہلے آئے ہیں، بڑے بڑے ہم نے پہلے دیکھے ہیں آئے اور نیست و نابود ہو گئے ، ان کے نشان مٹ گئے اس دنیا سے، لیکن ان غریبوں کی قربانیوں کو خدا نے قبول فرمایا اور پہلے سے بڑھ کر عظمت اور شان عطا کی جنہوں نے اپنے گھر خدا کے لئے خالی کئے۔ان پر اتنی برکتیں نازل فرما ئیں کہ آج ان کی اولادیں بھی ان کی نیکیوں کا پھل کھا رہی ہیں اور وہ ختم نہیں ہو رہا۔تو اس نئے قربانی کے دور میں جماعت جو داخل ہوئی ہے ،نئی خوش خبریوں کے دور میں داخل ہوئی ہے، نئی عظیم الشان ترقیات کے دور میں داخل ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی تیزی کے ساتھ اب ہم ان مقاصد کو بھی حاصل کر رہے ہیں جن کی خاطر ان چندوں کی تحریکات کی گئیں تھیں۔چنانچہ آج ہی امریکہ سے یہ خوشخبریاں موصول ہوئی ہیں جو جماعت کو معلوم ہونی چاہئیں کیونکہ جہاں اللہ کی راہ میں دکھ کا مزہ ہے وہاں خدا کی طرف سے جو فضل نازل ہوتے ہیں ان کا بھی تو ایک مزہ ہے اور وہ بھی عجیب مزہ ہے اس لئے یہ دونوں باتیں اکٹھی چلنی چاہئیں اور مومن کی عجیب شان ہے اس کے دکھ میں بھی لذت ہے، اس کی خوشی میں بھی لذت ہے اس کا دکھ بھی آنسو بن کر گرتا ہے خدا کے حضور اس کی خوشیاں بھی خدا کے حضور آنسو بن کے گرتی ہیں۔یہ دنیا ہی الگ ہے اور دنیا والے اس دنیا کو سمجھ نہیں سکتے۔بہر حال جو واشنگٹن سے شیخ مبارک احمد صاحب نے خوش خبریاں