خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 289
خطبات طاہر جلد ۳ 289 خطبہ جمعہ ارجون ۱۹۸۴ء پاؤنڈ کے وعدے آچکے ہیں۔اسی طرح امریکہ کی طرف سے ایک لاکھ چالیس ہزار آٹھ سو پینتالیس پونڈ کے وعدے وصول ہو چکے ہیں اور کل وعدے اب تک چار لاکھ انیس ہزار ایک سوسینتالیس پاؤنڈ کے بنتے ہیں جن میں سے پینتالیس ہزار پاؤنڈ سے کچھ اوپر یا چھیالیس کے قریب یہ تو نقد وصول ہو گئے ہیں اور بعض دوستوں نے مثلاً ایک ہمارے انگلستان کے ایک بڑے مخلص دوست ہیں انہوں نے پچاس ہزار پاؤنڈ کا وعدہ کیا ہے وہ فرماتے تھے کہ میں جون میں ادا کر دوں گا، وہ آج کل بیمار بھی ہیں ان کے لئے دعا بھی کریں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور اسی طرح امریکہ کے ایک نو جوان ڈاکٹر نے باوجود اس کے کہ امریکہ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا تھا پچاس ہزار ڈالرز کا وعدہ کیا ہے جو وہ عنقریب بھجوا دیں گے انشاء اللہ تعالی۔یہ وعدے تو ہیں جو عموماً موٹی موٹی رقموں کے لیکن جماعت کے دونوں کنارے اللہ تعالیٰ نے قربانی اور اخلاص کے ساتھ مزین کر رکھے ہیں، ایک طرف ایسے ایسے مخلص افراد ہیں جو لکھوکھا کے وعدے کر رہے ہیں اور دوسری طرف ایسے غربا ہیں جن کے پاس سو پاؤنڈ جمع تھے یا دو سو پاؤنڈ جمع تھے کسی ضرورت کے لئے رکھے ہوئے تھے بلاتر در انہوں نے وہ پیش کر دیئے ہیں اور پھر وہ نظارہ نظر آ رہا ہے جو تحریک جدید کے آغاز پر مستورات کا میں بچپن میں اپنے گھر میں دیکھا کرتا تھا۔عورتیں، بچیاں، کسی نے چوڑی پکڑی ہوئی کسی نے کڑا پکڑا ہوا، کسی نے بندے اور بڑے عجیب جذ بے جوش کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتی تھیں کہ ہماری یہ قربانی قبول فرمائیں۔انگلستان کی جماعت میں بھی بکثرت ایسی مستورات ہیں جنہوں نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ اپنے ہاتھوں کے کنگن اتار دیئے ، اپنی چوڑیاں اتار دیں، اپنے بندے اتار دیئے ، اپنے سر کے زیورا تار دیئے ، اور بعضوں نے تو ایسی پیاری ادا کے ساتھ بھجوایا ہے کہ بچیوں کی انگوٹھیاں ان کے بندے چھوٹے چھوٹے ہر ایک کا نام لکھ کر سجا کر جس طرح جاہل لوگ دنیا میں بکرے سجاتے ہیں وہ تو اپنی ریا کی خاطر سجاتے ہیں لیکن خدا کے بندے اپنے تحفوں کو خدا کے حضور سجا کر پیش کرتے ہیں کسی ریا کی خاطر نہیں بلکہ محض للہی محبت میں۔تو بڑے پیار سے سجا کر ان زیوروں کو بھجوایا گیا۔بعض نوجوان جوڑوں نے اس قربانی کا مظاہرہ کیا خصوصاً ان کی بیویاں تو غیر معمولی طور پر دعاؤں کی مستحق ہیں کہ خاوند نے اپنی جگہ چندے دیئے اور بیوی کی تسکین نہیں ملی۔اس نے کہا کہ جب تک میں زیور نہیں