خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 242

خطبات طاہر جلد۳ 242 خطبه جمعه الارمئی ۱۹۸۴ء تمہیں میں بے وطن کر دوں گا، تم ایک مغلوب قوم کی طرح میرے تابع رہو گے اور نہایت درد ناک زندگی تمہاری ہوگی ورنہ تمہیں واپس ہماری ملت کی طرف لوٹ آنا ہوگا۔تو بے وطن کرنے کا ایک یہ مضمون ہے جو دہریت کے سوا پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب جنگ واضح ہو جاتی ہے، معاملہ کھل جاتا ہے تو پھر میرے اور میرے بندوں کے مخالفین کے درمیان سے میرے بندے ایک طرف ہٹ جاتے ہیں اور درمیان میں کوئی نہیں رہتا پھر میں جانوں اور میرے بندوں کے مخالفین جانیں پھر یہ جنگ میری اور ان لوگوں کی شروع ہو جاتی ہے جو میرے بندوں کو میرے نام پر دکھ دیتے ہیں۔لیکن اس مضمون پر مزید روشنی ڈالنے سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان آیات کے مطالعہ سے بہت ہی واضح طور پر یہ بات انسان کے ذہن میں ابھرتی ہے کہ جب قوم کو کوئی نبی مخاطب کرتا ہے خدا کے نام پر تو جیسا کہ میں نے بیان کیا اس سے پہلے، اس واقعہ سے پہلے ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ دہر یہ ہو چکے ہیں۔جب خدا کے نام پر مخاطب کیا جاتا ہے تب ان کو یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہم تو کہانیوں میں ایمان لائے ہوئے تھے۔گزشتہ زمانوں میں ایسے واقعات ہو گئے ہوں تو فرق کیا پڑتا ہے لیکن اس زمانے میں اس روشنی کے زمانے میں ہو کیسے سکتا ہے کہ ایک بندے سے خدا کلام کرے اور خدا کے نام پر وہ ہمارے اوپر مسلط کیا جائے اس لئے وہ اس کا انکار کر دیتے ہیں اور جب انکار کرتے ہیں تو قدم قدم پر ان کو اپنی دہریت کا اقرار کرنا پڑتا ہے کیونکہ نبوت کے مقابلے پر جس کے ساتھ عقل کل ہوتی ہے جس کے ساتھ ہر قسم کی منطق ہوتی ہے اور الہی نشان ہوتے ہیں اس کے مقابل پر سوائے اس کے کہ غیر معقول طرز اختیار کی جائے کوئی چارہ نہیں رہتا دشمن کے لئے اور غیر معقول طرز اختیار کرنے کے لئے ، دھاندلی اختیار کرنے کے لئے ، جبر کے لئے خدائی اختیار ہاتھ میں لینے پڑتے ہیں کیونکہ اگر خدائی اختیار نہ ہوں اور بندے کے برابر کے اختیار ہوں تو ان میں سے کوئی صورت بھی اختیار نہیں کی جاسکتی۔تو ایک مجبوری در پیش ہے مخالفین کو ان کو انکار نبوت دہر میت کی طرف دھکیل دیتا ہے اور پھر ان سے خدا نمودار ہوتا ہے اور وہ جھوٹا خدا سچے نبی کی مخالفت کا علم ہاتھ میں اٹھا کر تمام وہ ذرائع اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے انسانی فطرت جس کو دھکے دیتی ہے اور اس سے کراہت محسوس کرتی ہے۔تو فطرت انسانی بھی نتھر کر الگ ہو جاتی ہے، معقولیت بھی نظر کر الگ ہو جاتی ہے، قربانیاں اور ایثار نتھر کر الگ