خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد۳ 243 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۸۴ء ہو جاتے ہیں اور اس کے مقابل پر دھاندلی اور جبر اور غیر معقولیت اور تکبر اور خدائی کے دعوے یہ ایک طرف کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں لِيَمِينَ اللهُ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ (الانفال:۳۸) اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم تمہیں اس حال پر رہنے دیں جس حال میں تم ہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خبیث اور طیب کی تمیز نہ کر دے۔ایک Polarization وجود میں آتی ہے، ایک صف آرائی ہوتی ہے جس میں نا معقولیت، جبر، اپنی بات پر ضد اور دھاندلی اور دعوی خدائی ان معنوں میں کہ انسانی حقوق کی پامالی کا حق ایک قوم اختیار کر لیتی ہے اور اس کے مقابل پر بظاہر بے طاقتی اور بے بسی لیکن صبر اور معقولیت اور دلائل اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور پورا تو کل یہ نظر کر الگ ہو جاتے ہیں۔تو یہ وہ آخری Polarization ہے، آخری صف آرائی ہے جس کے بعد پھر خدا کے دخل دینے کا وقت آتا ہے لیکن اس سے پہلے ایک اور واقعہ رونما ہو جاتا ہے جس کا قرآن کریم کی بعض اگلی آیات ذکر کریں گی۔دوسری آیت جس کی میں نے تلاوت کی تھی اس میں اس مضمون کو استکبار کے ذریعے کھول کر بیان فرمایا - قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِه که یہ دراصل دہریت کے نتیجہ میں نبوت کا انکار ہوا کرتا ہے کیونکہ استکبار اور دہریت ایک ہی چیز کے دونام ہیں۔استکبار کہتے ہیں خدا کے کبر کو اس کی ذات سے چھین کر اپنی ذات کی طرف منسوب کر دینا۔بڑائی تو صرف اللہ ہی کی ہے، اللہ اکبر میں یہی تعلیم دی جاتی ہے اگر انسان اپنے آپ کو اکبر کہنے لگ جائے تو اس کا نام ہے استکبار۔وہ کبر جو کسی کی ذات کو زیبا نہ ہو، جو اس کا حق نہ ہوا سے وہ چھین کر کسی سے زبردستی اپنا لے۔یہ باب استفعال سے استکبار نکلا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ کسی کی چیز کو اپنا لینا۔استحصال جس طرح ہے چیز حاصل نہ کر سکے تو استحصال کرے، چھین لے ہضم کر لے ،غصب کرلے تو خدا تعالیٰ کا کبر چھین لینے کا نام استکبار ہے اور یہ سوائے دہریت کے پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت شعیب کے مخالفین نے بھی اس آیت سے پتہ چلتا ہے یہی دعویٰ کیا لَنُخْرِجَنَّكَ يُشْعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا یا تمہیں واپس لوٹ کر آنا ہوگا۔اگلی آیت میں اس قوم کی یا ان لوگوں کی خدائی کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔