خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد ۳ 241 خطبه جمعه الارمئی ۱۹۸۴ء کو آنحضور ع نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ لو كان الايمان عند الثريالنا له رجل من هؤلاء يا رجال من هؤلا ( بخاری کتاب التفسیر باب قوله تعالی و آخرین منھم ) یعنی سورہ جمعہ میں جب آنحضور ﷺ کی بعثت ثانیہ کا ذکر آیا تو اس کی تشریح میں آپ نے صحابہ کے سامنے یہ نقطہ بیان فرمایا کہ دوبارہ آنے کی ضرورت یعنی میرے دوبارہ آنے کی کسی غلام کی شکل میں ضرورت اس لئے پیش آئے گی کہ ایمان ثریا پر جا چکا ہوگا یعنی عملاً وہ زمانہ دہریت کا زمانہ ہوگا۔( صحیح بخاری کتاب التفسیر باب قولہ تعالیٰ و آخرین منھم ) پس نبوت کا دہریت کے ساتھ ایک بڑا گہرا تعلق ہے ویسا ہی گہرا تعلق جیسے زہر کا تریاق کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور جب زہر حد سے بڑھ جائے تو اسی قدر تریاق کی شدت بھی زیادہ ہونی چاہئے۔چنانچہ نبوت وہ آخری علاج ہے زمانے کا اگر یہ ظاہر نہ ہو تو وہ زمانہ لازمامٹ جایا کرتا ہے۔پس اس پہلو سے جب ہم غور کرتے ہیں تو ایک اور مضمون ابھرتا ہے اور یہ جو سارا مضمون ہے مختلف رنگ میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے۔پہلی آیت جس کی میں نے تلاوت کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت نوح" اور بعد میں آنے والے انبیاء کا ذکر فرما کر وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ جب بھی خدا کی طرف سے رسول آئے ہیں ان کےانکار کر نے والوں نے یہ کہا لَنُخْرِ جَنَّكُمْ مِنْ اَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا کہ ہم لازما تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے اور بے وطن کر دیں گے یا یقینا تمہیں ہماری ملت میں لوٹ کر واپس آنا ہوگا۔یہ کلمہ ہے دہریت کا کلمہ جب تک کوئی کہنے والا خدائی اختیار اپنے ہاتھ میں نہ لے اس وقت تک یہ فقرہ کہہ ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ وطن جو سب کا مشترک وطن ہو اس کو یہ کہنا کہ یہ میرا وطن ہے اور میں اس وطن سے تمہیں نکال دوں گا یہ سوائے دہریت کے کلمہ ذہن میں آہی نہیں سکتا اور وطن سے نکالنے کا صرف یہ مطلب نہیں کہ جسم کے لحاظ سے اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا۔وطن سے نکالنے کا یہ بھی مفہوم ہے اور انبیاء کی تاریخ سے ثابت ہے کہ شہری حقوق سے محروم کر دیا جائے گا، تم ہمارے برابر کے ہم وطن نہیں رہو گے خواہ تمہیں ہم زبردستی نکال دیں یا ویسے نکالیں۔ان دونوں چیزوں کا نام وطن سے نکالنا ہے بلکہ وہ پہلی شکل بعض دفعہ زیادہ مرغوب ہوا کرتی ہیں قوموں کو کہ وطن سے نہ نکلنے دیا جائے اور پھر بھی بے وطن کر دیا جائے چنانچہ انہی آیات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ فرعون نے یہی شکل اختیار کی تھی۔اس نے کہا تھا کہ میں تمہیں یہاں رکھوں گا اور نہیں نکلنے دوں گا اور اس کے باوجود