خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد ۳ 202 خطبه جمعه ۱۳ را بپریل ۱۹۸۴ء تھی۔چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے وہ ترستے تھے۔میٹھا دیکھنے کو ان کی آنکھیں ترس گئی تھیں۔عام کھانے کی چیزیں مثلاً ڈبل روٹی جس کی حیثیت ہی نہیں وہاں کی خوراک میں سمجھی جاتی تھی اس کے لئے بھی لائنیں لگانی پڑتی تھیں بڑے بڑے لمبے Que ہوتے تھے اور بڑا خوش قسمت ہوتا تھا جس کو ڈبل روٹی مل جائے۔جرمنی میں ایک ایسی حالت آئی فاقہ کی کہ بعض اوقات دنوں کے فاقے کرنے پڑتے تھے لوگوں کو اور جو حالات میں نے مطالعہ کئے ہیں اس زمانے کے حیران رہ جاتا ہے انسان کہ کتنی سخت جانی کے ساتھ کتنی ہمت کے ساتھ ان قوموں نے ان تکلیفوں کو برداشت کیا ہے اور ان کا مقابلہ کیا ہے۔تو جوع بھی انسان کے مقدر میں ہے اور بعض اوقات انسان ایک لمبے عرصہ تک اس سے نہیں آزمایا جا تا بعض دفعہ جب پکڑ لیتی ہے خدا کی تقدیر تو چھوٹا ہو یا بڑا ہو وہ سارے ان میں سے ہر ایک انسان لازماً جوع کو چکھتا ہے۔قرآن کریم نے اس کا محاورہ استعمال فرمایا ہے لباس الجوع۔ایسے وقت آتے ہیں کہ جب ہم قوموں کو بھوک کے لباس پہنا دیتے ہیں یعنی ان کے لئے چارہ نہیں رہتا بھوک کے سوا ان کا اوڑھنا بچھونا ہو جاتی ہے بھوک تو دنیا میں بسنے والے دنیا کی خاطر بھی بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں کو بھی اپنی خاطر تھوڑی سے بھوک سے آزمانے والا ہوں بعض دفعہ ان کو اس وجہ سے فاقہ کرنا پڑے گا کہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں اور خدا سے پیار کرتے ہیں اور کوئی اور قصور ان کا نہیں ہوتا۔یہ وجہ نہیں ان کی بھوک کی کہ وہ نکھے ہیں، یہ وجہ نہیں ہے کہ قحط سالی ہے ملک میں ، یہ وجہ نہیں ہے کہ ان کا اقتصادی نظام کسی دوسرے سے ٹکرایا اور نا کام رہا، کوئی دنیاوی وجہد ان کی بھوک کی آپ بیان نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفی علی کے اور آپ کے ساتھیوں کو اسی قسم کی بھوک میں آپ کی قوم نے مبتلا کیا۔تین سال تک شعب ابی طالب میں جو ایک وادی تھی ابو طالب کی وہاں ان کو قید کیا گیا اور ان کا اقتصادی بائیکاٹ کیا گیا اور بڑے لمبے عرصہ تک قبیلے پہرے دیتے رہے کہ کوئی ان کا دوست مخفی طور پر بھی ان کو کھانے کی کوئی چیز نہ پہنچا سکے۔چنانچہ بہت سے صحابہ ان تکلیفوں کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کا بھی وصال ہوا اور بہت سے صحابہ تھے جو انتڑیوں کی بیماریوں کی