خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد ۳ 203 خطبه جمعه ۱۳ر اپریل ۱۹۸۴ء وجہ سے اور بھوک کے لمبے اثرات کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ گھل گھل کر مر گئے۔اتنا شدید فاقہ تھا بعض دفعہ اس کی تکلیف اتنی بڑھ جایا کرتی تھی کہ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں کہیں سے گزر رہا تھا میرے پاؤں کے نیچے ایک نرم سی چیز آئی مجھے یہ ڈر تھا کہ اگر میں نے دیکھا کہ وہ کیا ہے تو ہوسکتا ہے مجھے معلوم ہو جاتا کہ وہ ایک گندگی ہے، مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ وہ کوئی کیڑا ہے مکروہ قسم کا جسے میں کسی قیمت پر بھی کھا نہیں سکتا لیکن بھوک کی اتنی شدت تھی کہ میں برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لئے میں نے اسے دیکھا نہیں اسے اٹھایا اور اپنے گلے میں اس طرح لٹکا یا اپنے حلق میں کہ زبان کو مس بھی نہ کر سکے، یہ پتہ نہ لگے کہ وہ کیا چیز تھی ؟ چنانچہ وہ نشانہ ایسا میں نے لگایا کہ وہ سیدھا حلق میں جا گرا اور میں اسے نگل گیا اور کہا کرتے تھے ہنس کر کہ مجھے آج تک پتہ نہیں ہے کہ وہ کیا چیز تھی جو میں کھا گیا تھا۔درختوں کے پتے بھی صحابہ نے کھائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسی حالت میں ہم ان کو آزماتے ہیں اور یہ وہ بھوک ہے جو صرف اللہ کی خاطر دی جاتی ہے۔جو اللہ کے بندے ہیں وہ اس پر صبر کرتے ہیں، وہ راضی رہتے ہیں، کوئی واویلہ کی بات نہیں کرتے ، کوئی شکوے کا کلمہ زبان پر نہیں لاتے ہر حالت کو وہ خدا کی رضا کی خاطر تسلیم کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَنو الي مال بھی دنیا میں لوٹے جاتے ہیں کئی وجوہات سے اور قو میں قوموں پر یلغار کرتی ہیں، چور لے جاتے ہیں مال ، ڈاکو لے جاتے ہیں ، آگ لگ جاتی ہے گھروں کو ، ہزار ہا ذریعے ہیں مالوں کے نقصان کے مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اموال محض میری رضا کی خاطر لوٹے جاتے ہیں۔وہ خود لٹیرے نہیں ہوتے ، وہ کسی پر ظلم نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ان کی تو فطرت یہ ہوتی ہے کہ اگر کسی کے مال کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتو وہ جد و جہد ، کوشش کر کے بھی اسے خطرہ سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں ، ان سے خیر ہی خیر دنیا دیکھتی ہے۔اس کے باوجود ان کے اموال خدا کی خاطر یعنی اس وجہ سے کہ وہ خدا کے ہو چکے ہیں لوٹے جاتے ہیں۔وَالْاَنْفُسِ اور کچھ جانیں بھی ان کی ضائع ہوتی ہیں۔اب دیکھئے خدا کے جان لینے کے کتنے طریق ہیں ؟ ہزار ہا ذریعے ہیں جن سے موت انسان کو آجاتی ہے بعض لوگ چھینک سے مرجاتے ہیں ، بعض لوگ بغیر بیماری کے سوئے سوئے جان دے دیتے ہیں یہ بھی ایک بیماری کہلاتی ہے جس بیماری کا کوئی علم نہیں کہ کیوں ہے؟ ایک انسان اچھا بھلا سویا ہے اور نیند کی حالت میں ڈوبتے