خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 201

خطبات طاہر جلد ۳ 201 خطبه جمعه ۱۳ راپریل ۱۹۸۴ء بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ ایک خاص قسم کے خوف میں سے ایک حصہ تمہیں دیا جائے گا اور اس وقت تم آزمائش میں مبتلا ہو گے اگر تو واقعہ یہ خوف خدا کی خاطر ہے تو تمہیں یہ خوف متاثر نہیں کر سکے گا۔تمہیں یہ خوف اس طرح ڈرا نہیں سکے گا جیسے اہل دنیا کو دنیا کے خوف ڈرا دیا کرتے ہیں۔یہ ہے ابتلا کا معنی آزمائش کا معنی اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مسلمان جو سچا مومن ہو جو اللہ پر توکل رکھتا ہو وہ خوف کے نتیجہ میں خوفزدہ اور ہیبت زدہ ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم کی دوسری آیت اس مضمون کی نفی فرمارہی ہے۔اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (یونس :۶۳) کہ دیکھو اللہ کے دوست جو اللہ کے ہو جاتے ہیں ان کے اوپر تو کوئی خوف نہیں ہوتا۔تو بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ کا یہاں مطلب یہ ہوگا کہ دنیا کی طرف سے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، دنیا کی طرف سے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس وقت اللہ آزمائے گا اپنے بندوں کو جو اس کے ہوں گے ان کے دل پر اس خوف کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔جولوگ اللہ کے نہیں ہوں گے یا کسی حد تک غیر کی ملونی ان کے دلوں میں شامل ہوگی اس حد تک وہ اس خوف سے متاثر ہو جائیں گے۔پھر اسی طرح یہی آیت کریمہ ہمیں بتاتی ہے کہ بھوک بھی انسان کے مقدر میں ہے۔بڑے سے بڑا امیر آدمی بھی ہو اس کے اوپر بھی ایسے حالات آجاتے ہیں کہ کسی نہ کسی وقت وہ بھوک کا شکار ہوتا ہے۔پیسہ ہونے کے باوجود وہ بعض دفعہ ایسی حالت میں پکڑا جاتا ہے کہ اس کا پیسہ اس کے لئے کچھ خوراک کا انتظام کر نہیں سکتا۔بڑی بڑی امیر قومیں ہیں جن کے ہاں کھانا اتنا ضائع ہو رہا ہوتا ہے کہ بعض غریب قومیں ان کے ضائع شدہ کھانے پر پل سکتی ہیں لیکن بعض ایسے حالات آتے ہیں کہ وہ بھی بھوک کا شکار ہو جاتی ہیں۔گزشتہ جنگ عظیم میں انگلستان کی حکومت جو کسی زمانہ میں بہت بڑی اور قوی حکومت سمجھی جاتی تھی جن کا اقتصادی نظام بہت مستحکم تھا اس حکومت کے باشندوں کے لئے بھی اس ملک کے باشندوں کے لئے بھی ایسی بھوک کا سامان کرنا پڑا کہ ان کے امیر اور ان کے غریب، ان کے چھوٹے اور ان کے بڑے ساروں کو لباس الجوع پہنا دیا گیا یعنی بھوک ان کا لباس بن گئی