خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 184 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 184

خطبات طاہر جلد ۳ 184 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء خط دنیا سے آرہے ہوتے ہیں کہ اس کے بعد مجھے پھر نیا حوصلہ ملتا ہے اور میں یہ رحم اس بات میں نہیں سمجھتا کہ اب مانگنا بند کر دوں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ خدا کے فضل کے دروازے بند کر دوں۔میں اقتصادی رحم جماعت پر یہ سمجھتا ہوں کہ اور مانگو اور مانگو تا کہ خدا کے فضل لا متناہی طور پر نازل ہونے شروع ہو جائیں۔اس لئے اس تجربہ اور اس یقین کے ساتھ میں احباب جماعت کو تحریک کرتا ہوں کہ کمر ہمت کسیں اور اس گزشتہ کمی کو جو گیارہ سالہ کمی ہے اسے چار سال میں نہیں بلکہ کوشش کریں کہ ایک دوسال کے اندر ہی پوری کر دیں اللہ تعالیٰ پھر دیکھیں کس طرح ان پر فضلوں کی بارش نازل فرماتا ہے، کس طرح ان کی جیبوں کو پھیلاتا چلا جاتا ہے ، ان کی ضرورتوں کو خود پوری کرتا ہے اور یہ سارا نظام جب مکمل ہو جائے گا یہ دائرہ تو آخر پر مخلصین جو اپنی توفیق سے بڑھ کر ادا ئیگی کی کوشش کر رہے ہوں گے شرمندگی محسوس کریں گے کہ اوہو! ہم تو بہت بڑا تیر مار رہے تھے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ نے تو اتنے فضل کر دیئے ہیں کہ ہم حق ادا نہیں کر سکے۔یہ ہے جماعت احمدیہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تعلق۔خدا کرے یہ مراسم اسی طرح جاری رہیں، ہمیشہ ہمیش کے لئے ، ہم خدا کی محبت اور پیار میں قربانیاں دیتے چلے جائیں اور ہماری محبت اور پیار کو لا متناہی طور پر اور بڑھانے کے لئے اللہ اپنے فضلوں کو اتنا بڑھا تا چلا جائے کہ ہم ہمیشہ شرمندہ ہی رہیں اپنے رب سے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں کر سکے تیرے فضل ہم سے جیت گئے۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: آج چونکہ مشاورت کا دن ہے اس لئے حسب دستور جمعہ کے ساتھ نماز عصر بھی جمع کی جائے گی۔افسوس ہے کہ جگہ کی قلت کی وجہ سے سب کو موقع نہیں مل سکتا اس نہایت دلچسپ اور روحانیت کی افزائش کرنے والی مجلس میں شامل ہونے کا۔جگہ تھوڑی ہے تو زائرین کو بھی کم ٹکٹ ملتا ہے اس لئے مجبوری ہے لیکن آپ لوگ باہر بیٹھے شامل ہو سکتے ہیں دعاؤں کے ذریعہ، اتنا تو کریں۔تین دن مسلسل صبح و شام، دن رات ، ذکر الہی اور دعاؤں میں لگائیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو خدا کے کاموں کی خاطر اکٹھے ہوئے ہیں سوچ و بچار اور فکروں کے لئے ان کے ذہنوں کو روشن کرے، ان کے قلبوں کو جلا بخشے ، ان کو خدا کے کاموں کی خاطر وسیع حوصلہ کے ساتھ وسیع منصوبے