خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 183
خطبات طاہر جلد ۳ 183 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۸۴ء آنحضرت ﷺ نے فرمایا ٹھہرو! کپڑے سے آٹے کو بھی ڈھانک دو اور یاد رکھو کہ ہانڈی سے ڈھکنا نہیں اتارنا جب تک میں نہ آجاؤں اور شروع نہیں کرنا جب تک میں خود اپنے ہاتھ سے شروع نہ کروں تقسیم نہیں کرنی۔خیر ! وہ واپس گیا، بیوی کو اس نے پیغام دیا کہ اللہ ہی آج عزت رکھ لے، یہ واقعہ ہو گیا ہے تو اس نے کہا رسول کریم ﷺ نے جو فرمایا ہے اسی طرح کر وسب کچھ ٹھیک ہو جائے گا چنانچہ آنحضور علیہ تشریف لائے، کپڑا اٹھایا آٹے سے اور ہاتھ لگایا اور اس کو کہا کہ شروع کر د روٹی پکانا اور ساتھ ہی ہانڈی سے ڈھکنا اٹھاکر تقسیم شروع کر دی خود ہی اب وہ صحابی خود بیان کرتے ہیں اور ایک سے زیادہ روایتوں میں یہ واقعہ بیان ہے کہ لوگ کھاتے چلے گئے اور نکلتا چلا گیا آٹا بھی بڑھتا گیا اور ہانڈی سے سالن بھی نکلتا ہی چلا گیا اور ہمیں کچھ مجھ نہیں آتی تھی کہ یہ ہو کیا رہا ہے یہاں تک کہ جب سارے لشکر کا پیٹ بھر گیا تو اتنا کھانا بچا ہوا تھا کہ گھر والے اور اس کے علاوہ اپنے دوستوں میں سے کسی کو بھیجنا چاہیں تو بھیج سکتے تھے۔( صحیح بخاری کتاب المغازی باب في غزوة الخندق) تو جو خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ظاہر ہوا اور آپ سے اس قدر رحمت اور فضلوں کا سلوک فرمایا ہم بھی تو اسی خدا کے اسی محبوب کے غلام ہیں اور اسی کے نام پر کام کر رہے ہیں اس لئے دنیا کے حساب سے چاہے بالکل جاہلانہ باتیں ہوں لیکن جماعت احمدیہ کے تجربہ میں ہے یہ بات ،سوسالہ مشاہدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے ساتھ جماعت کی قربانی کی توفیق کو بڑھاتا ہے اور روپے میں کمی نہیں آنے دیتا۔ان کی ذاتی ضرورتیں بھی پہلے سے بڑھ کر پوری کر دیتا ہے اور بعض دینے والے ایسے ہیں کہ جب وہ دیتے ہیں تو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ گویا اپنی توفیق سے بڑھ کر وعدہ لکھوا دیا اور ایک دو سال کے اندر ہی خدا ایسی برکت دے دیتا ہے کہ وہ شرمندہ ہو جاتے ہیں کہ ہم نے وعدہ کم لکھوایا تھا۔چنانچہ ابھی کل ہی مجھے پتہ لگا لاس اینجلز سے ایک ڈاکٹر صاحب ہیں ہمارے بڑے مخلص، فدائی ، انہوں نے مشنز کے لئے پچیس ہزار ڈالرز کا وعدہ لکھوایا تھا اور بعض ان کے جاننے والوں کا خیال تھا کہ شاید یہ بہت وعدہ لکھوا دیا ہے انھوں نے ، اب دو تین دن کے عرصے کے اندر ان کی طرف سے خط آیا ہے اور کل اس کی تحریک (جدید) نے مجھے رپورٹ بھجوائی کہ وہ کہتے ہیں کہ جو میرے موجودہ حالات ہیں ان کے پیش نظر پچیس ہزار ڈالرز کم ہے اس لئے میں اس کو بڑھا کر پچاس ہزار ڈالر کرتا ہوں۔تو یہ دیکھ لیجئے کس طرح خدا کا سلوک ہوتا ہے اور اس کثرت سے اس مضمون کے