خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 150
خطبات طاہر جلد ۳ 150 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء ہے۔قام ایسے کھڑے ہوئے آدمی کے متعلق کہہ سکتے ہیں جواز خود کھڑا ہے کوئی اسکو دھکا نہیں دے رہا کوئی تیز ہوا نہیں چل رہی اس کے قدم اکھاڑنے کے لئے لیکن استقام اس شخص کے لئے آتا ہے جس کو تند ہواؤں کا مقابلہ ہو، دھکوں کا مقابلہ ہو، مشکلوں کا مقابلہ ہو، زلازل کا مقابلہ ہو اس کے باوجود اس کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئے ، وہ قائم رہے اپنے حال پر مخالفتوں کے باوجود۔پس حلم اس عقل کو کہتے ہیں جو غصہ کے باوجود قائم رہے، اور حلم اس عقل کو کہتے ہیں جو دشمن کے غصے کے باوجود بھی قائم رہے اور اپنے اندرونی غصہ کے باوجود بھی قائم رہے۔پس اللہ تعالیٰ حلیم ہے ان معنوں میں کہ جب خدا کے دشمن یا خدا کے بندوں کے دشمن غصہ دلاتے ہیں تو اس وقت بھی اللہ تعالی بردبار ہوتا ہے اور اپنے علم کو قائم رکھتا ہے اور حلم کے نتیجہ میں پھر مغفرت پیدا ہوتی ہے۔علم نہ ہو تو غصہ کے نتیجہ میں جلد بازی پیدا ہوتی ہے اور اندرونی غصہ کے مقابل پر جب انسان پر یہ لفظ بولا جائے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ غصے کو عقل پر قبضہ نہ کرنے دے انسان۔غصہ ایک حرکت کا مطالبہ کرتا ہے بعض دفعہ بڑی تیزی کے ساتھ ، عجلت کے ساتھ کہتا ہے کہ جواب میں یہ کہو۔حلم اس وقت قبضہ کر لیتا ہے اور غصے کو اپنی من مانی نہیں کرنے دیتا۔ایسی عقل اور ایسی فہم کو جو اس طرح مقابل پر آکر پھر بھی ثبات دکھا دے اور قائم رہے اور غالب آجائے جذبات پر اس کو حلم کہتے ہیں۔پس اگر چہ یہ نقل ہے لیکن اس کا دل سے بھی تعلق ہے،اس کا جذبات سے تعلق ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو حضرت مصلح موعودؓ کے متعلق جو خوشخبریاں دی گئیں ان میں ایک فقرہ یہ تھا وہ دل کا حلیم ہو گا۔بظاہر تو حلم کا عقل سے تعلق ہے دل کے علیم کا کیا مطلب ہے؟ مراد یہی ہے کہ جذبات جب اسے مشتعل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس سے جلد بازی کی حرکتیں کروانے کی کوشش کریں گے شدید مخالفتیں اس کے پاؤں اکھیڑنے کی کوشش کریں گی اس کے دل میں حکم ہوگا یعنی عقل ایسی ہوگی جو دل پر قبضہ کئے ہوئے ہوگی اور جذبات سے فیصلے نہیں کرے گا بلکہ فہم اور فراست سے فیصلے کرے گا۔رت عملے نے مختلف رنگ میں حلم کی تعلیم دی اور صحابہ کی تربیت اس رنگ میں فرمائی کہ ان میں حلم پیدا ہو بعض دفعہ حکایات کے رنگ میں، بعض دفعہ اللہ تعالیٰ نے بعض خبریں آپ کو عطا فرمائیں وہ بیان کیں ، بعض دفعہ صاف اور سیدھی اور نہایت پاکیزہ دنشین نصیحت کے ذریعہ۔