خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 151 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 151

خطبات طاہر جلد ۳ 151 خطبه جمعه ۱۶ار مارچ ۱۹۸۴ء حضرت ابو درداء بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسٹی میں تیرے بعد ایک ایسی قوم پیدا کرنے والا ہوں اگر ان کو کوئی ایسی نعمت ملے گی جو انہیں پسند ہوتو وہ اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے اور شکر ادا کریں گے اور اگر انکو کوئی تکلیف پہنچے گی جس سے وہ دکھ پائیں تو وہ اس کو ثواب کا ایک ذریعہ سمجھیں گے اور صبر سے کام لیں گے جبکہ دنیا سے حلم اور علم مفقود ہو چکا ہوگا۔حضرت عیسی نے پوچھا اے باری تعالیٰ ! اے میرے رب ! وہ کیسے یہ کر سکیں گے جب کہ دنیا سے خود تیرے ہی قول کے مطابق علم بھی مفقود ہو چکا ہوگا اور حلم بھی مفقو دہو چکا ہوگا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں اپنے حلم اور علم کے خزانے سے ان کو عطا کروں گا۔(مسند احمد کتاب مسند القبائل باب بقیہ حدیث ابی الدرداء ) حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے منہ سے یا ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے جو حکایت بیان فرمائی ہے یہ حکایت نہیں ہے یعنی ان معنوں میں جس طرح کہانی ہو ، یہ حدیث قدسی ہے جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر نہ دی ہو یہ ممکن ہی نہیں کہ آنحضور ﷺ کوئی بات بیان فرما ئیں۔حضرت عیسٹی کی طرف اس بات کو منسوب کرنے میں ایک پیغام ہے اول تو یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سب سے پہلی قوم جو ظاہر ہوئی ہے وہ حضرت محمد مصطفی علیہ کی قوم ظاہر ہوئی ہے اور ان کے مابین اور کوئی نہیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ آنحضرت علیہ نے اس وقت حلم کو دوبارہ قائم کیا ہے اللہ تعالیٰ کی نصرت کے ساتھ جب کہ کلیتہ دنیا سے مفقود ہو چکا تھا اور اس وقت علم کو قائم کیا ہے جب کہ کلینتہ دنیا سے علم مفقود ہو چکا تھا۔ان معنوں پر اگر غور کریں تو هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُوْلًا ( الجمعہ: ۳) میں اميين سے مراد صرف اہل عرب نہیں ہیں بلکہ تمام دنیا ہے رَسُولًا مِّنْهُمْ وہ امین ہی میں سے ایک رسول تھا اور ان کی طرف تھا۔آنحضرت یہ صرف اہل عرب کی طرف تو نہیں تھے وہ تو تمام دنیا کی طرف رسول تھے اس لئے وہ ایک ایسا وقت تھا جب کہ واقعتہ دنیا سے علم مفقود ہو چکا تھا، صرف عرب اُمی نہیں تھے بلکہ بظاہر پڑھی لکھی تو میں، بڑے بڑے علم کی محافظ اور پاسبان بنے والی قومیں بھی حقیقتہ پوری طرح جاہل ہو چکی تھیں اور علم بھی مفقود ہو چکا تھا۔عرب کی تاریخ پڑھیں یا دوسری قوموں کی اس زمانے میں تاریخ پڑھیں حلم تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ عنقا ہے، کوئی ایسا وجود ہے جو اس دنیا میں پایا ہی نہیں جاتا۔دوسری صفات بعض اچھی موجود تھیں مثلاً سخاوت تھی مثلاً انکساری بھی تھی، عفو بھی تھا، اس کی بڑی اچھی مثالیں ملتی