خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 149

خطبات طاہر جلد۳ 149 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مصرعے میں صِبْغَةَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً کی ہی تفسیر فرمائی گئی ہے اور جب بھی دشمن حملے کرتا ہے تو ایک ہتھیار سے حملے نہیں کرتا کبھی وہ کوئی ہتھیار اٹھاتا ہے اور کبھی وہ کوئی ہتھیار اٹھاتا ہے اور شیطان کے پاس جتنے بھی ہتھیار ہیں ان تمام ہتھیاروں سے کبھی وہ ایک ایک کبھی دو دو، کبھی چار چارا کٹھے کر کے وہ حملے کرتا ہے۔مومن کے ترکش میں، اس کے اسلحہ خانہ میں ہر ہتھیار کے مقابل پر اور ہتھیار کے ہر جوڑ کے مقابل پر صفات باری تعالیٰ کے ہتھیار ہیں اور ان کے جوڑ ہیں۔وہ فن آپ سیکھ جائیں تو سب سے عظیم الشان اور کامیاب مجاہد بن جاتے ہیں۔ہر موقع اور محل کے مطابق صفت باری تعالیٰ موجود ہے جو آپ کی حفاظت فرمائے گی اور پھر ایک صفت کی بجائے دوصفات اور تین صفات اور چار صفات یہ اس طرح آپس میں مل کر آپ کی حفاظت کریں گی کہ ممکن نہیں ہے دشمن کے لئے کہ وہ خدا تعالیٰ پر حملہ کئے بغیر اور خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑکائے بغیر آپ پر حملہ کر سکے۔یہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دوستیوں کی اصل بنیادی وجہ صفات کا ملنا ہوتا ہے۔ہم مشرب و ہم پیالہ کیوں کہتے ہیں اس لئے کہ ایک صفت ایک عادت صرف اکٹھی ہے شراب پینے کی اور اس کے نتیجہ میں گہری دوستیاں ہو جاتی ہیں۔تو جب ایک ایک عادت بھی انسان کو ایک دوسرے انسان کے ساتھ اس طرح باندھ لیتی ہے کہ ایک انسان دوسرے کے لئے غیرت دکھاتا ہے،اس کے لئے قربانیاں کرتا ہے، اس سے محبت اور پیار کا اظہار کرتا ہے، اس کے دشمن کا دشمن ہو جاتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک بندہ اپنے خدا کی صفات اختیار کرلے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے وہ غیرت نہ دکھائے ، یہ ناممکن ہے۔جس صفت کو بندہ اختیار کرتا ہے اس صفت میں اس کا خدا سے ایک جوڑ بن جاتا ہے اور جب اس صفت پر حملہ ہوتا ہے تو خدا تعالیٰ کی صفت از خود اس کی حفاظت کے لئے سامنے آجاتی ہے پس اس لحاظ سے حلم بھی ایک بہت ہی عظیم الشان صفت ہے جسکو اپنانے کی ضرورت ہے اور خصوصاً اس وقت جب کہ دشمن غیظ و غضب دکھا رہا ہو اور حد سے آگے بڑھ رہا ہو اس وقت حلم کی صفت کی بہت ہی ضرورت پیش آتی ہے۔حلم کے معنی ہیں بردباری ، فہم اور عقل لیکن علم میں اور عام عقل میں ، عام فہم میں ایک فرق یہ ہے جو قام اور استقام میں ہے۔قَامَ بھی کھڑے ہوئے شخص کے لئے بولا جاتا ہے اور استقام بھی کھڑے ہوئے شخص کے لئے بولا جاتا ہے لیکن قام میں مقابلہ نہیں ہوتا انتقام میں مقابلہ پایا جاتا