خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 148

خطبات طاہر جلد ۳ 148 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء آپس میں جوڑ تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے۔بندہ بھی اپنے خدا سے ہی رنگ سیکھتا ہے جیسا کہ میر درد نے کہا: دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے کہ تو بھی تو شانیں بدلتا رہتا ہے ہمارا دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھے ہوئے ہے آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ( الرحمن :۳۰) کی تفسیر بیان کی انہوں نے۔تو جو بندہ صفات باری تعالیٰ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس کا کام یہ ہے کہ صفات پر غور کرے اور ان کی تبدیلیوں پر غور کرے اور ان کے جوڑوں پر غور کرے اور ہر حال کے مطابق خدا تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہو جائے جو اس حال سے مناسبت اور مطابقت رکھتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جوفر مایا کہ عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہوگئے یارِ نہاں میں ( در مشین صفحه: ۵۰) تو اس سے مراد صفات باری تعالیٰ ہی ہے یعنی ہم عدو کے ہر حملہ کے مقابل پر خدا کی ایک صفت میں ڈھانپے گئے، اسکو ہم نے اوڑھ لیا اور اب عدو کے لئے ممکن نہیں رہا کہ صفات باری تعالیٰ پر حملہ کئے بغیر ہماری ذات تک پہنچ سکے۔چنانچہ قرآن کریم نے صفات کو اختیار کرنے کے لئے جو طریق اختیار فرمایا بندے کو سکھایا، وہ ہے صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً (البقره: ۱۳۹) که خدا کی صفات میں رنگین ہو جاؤ۔رنگ جب چڑھتا ہے کپڑے پر تو پینٹ(Paint) نہیں ہوتا کہ باہر پینٹ کر دیا جائے اور اندر سے خالی ہو، رنگ میں خوبی یہ ہے کہ وہ اس وجود کے ذرہ ذرہ میں ڈوب جاتا ہے جس وجود پر رنگ چڑھتا ہے۔اس کے فائیبر Fiber میں ،اس کے دھاگے میں ،اس کے ہر ہر ذرہ میں اس طرح جذب ہو جاتا ہے کہ کوئی ذرہ بھی خالی نہیں رہتا۔اس کو آگے سے چیریں تب بھی رنگ پہلے کٹے گا پھر اس کے ذرہ وجود میں داخل ہوگا ، پیچھے سے چیریں تب بھی رنگ پہلے کئے گا پھر اس کے وجود میں داخل ہوگا ، سوئی چبھوئیں، کوئی طریق بھی اختیار کریں، قینچی سے کاٹیں ممکن ہی نہیں ہے کہ رنگ کو کاٹے بغیر اس وجود پر حملہ ہو سکے تو : نہاں ہم ہوگئے یارِ نہاں میں