خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 147 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 147

خطبات طاہر جلد ۳ 147 خطبہ جمعہ ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء اللہ تعالیٰ کی صفت حلیم (خطبه جمعه فرموده ۶ امارچ ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد درج ذیل آیات قرآنیہ تلاوت فرمائیں: لَا يُؤَاخِذُ كُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ تُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حليم (البقره: ۲۲۲) قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى b وَاللهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ (البقره: ۳۶۴) یہ دو آیات جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی صفت حلم کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو حلیم کے طور پر پیش فرمایا گیا ہے۔ایک جگہ غَنِيٌّ حَلِیم فرمایا اور دوسری جگہ غَفُورٌ حَلِيمٌ فرمایا اور مضمون کی مطابقت کے ساتھ جہاں غَنِيٌّ حَلِيمٌ فرمایا وہاں غنا کا ہی تعلق حلم سے ثابت ہوتا ہے اور جہاں غَفُورٌ حَلِيمٌ فرمایا وہاں بخشش کا تعلق حلم سے ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح بہت سی اور آیات میں حلیم کا تعلق بعض دوسری صفات کے ساتھ جوڑ کر بیان فرمایا ہے جس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ مختلف صفات ہر موقع کے لحاظ سے بعض دفعہ اکیلی کافی نہیں ہوتیں ان کا جوڑ ہے ایک جو موقع اور محل کے مطابق بدلتارہتا ہے اور بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ایک صفت جلوہ دکھاتی ہے، بعض دفعہ دوصفات مل کر جلوہ دکھاتی ہیں، بعض دفعہ تین صفات مل کر جلوہ دکھاتی ہیں اور موقع اور محل کی مناسبت سے وہ صفات کا