خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 654

خطبات طاہر جلد ۲ 654 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۳ء رزق بھیجے۔پھر جب وقت بدلا ، سورج ڈوبا رات آئی تو اچانک وہاں بے انتہا اور جاندار بھی پیدا ہو گئے اور ریت میں جہاں بظاہر کچھ بھی کھانے کے لئے نہیں تھا ان سب کی خوراک کا انتظام موجو دتھا اور انہیں زمین میں نہایت خاموشی کے ساتھ ایک پوری کائنات بسی ہوئی دکھائی دی۔ابھی بھی وہ اس پر تحقیق کر رہے ہیں اور جو تصویر میں شائع ہوئی ہیں انہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی اس صفت اور اس کی مصوری پر حیرت ہوتی ہے۔اسی طرح ریگستان سے متعلق جہاں درجہ حرارت 140 تک پہنچ جاتا ہے جسے لق و دق صحرا کہتے ہیں، خیال تھا کہ وہاں کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اب سائنسدانوں نے تحقیق شروع کی تو اس پر بھی بڑے دلچسپ مضامین شائع ہونے شروع ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ادھر سورج ڈوبا اور ریت ذرا ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی تو ہر طرف سے زندگی پھوٹی شروع ہوگئی۔کچھ جانور ایسے ہیں جو نسبتا کم درجہ حرارت پر زندہ رہتے ہیں ، وہ زمین میں گہرے گئے ہوئے تھے جہاں تک سورج کی گرمی اثر نہیں کرتی تھی۔انہوں نے سوراخ بنا کر وہاں اپنی جائے رہائش رکھی ہے اور کچھ جاندار جو ذرا زیادہ گرمی بھی برداشت کر لیتے ہیں وہ ان سے کچھ قریب تھے اور کچھ اور زیادہ قریب تھے اور کچھ اور زیادہ قریب تھے۔سانڈھے اور اس قسم کے جانور جو بہت زیادہ گرمی برداشت کر سکتے ہیں سب سے پہلے یہ نظر آنے شروع ہوئے اور اچانک ہم نے دیکھا کہ پھر زمین سے اور چیزیں نکلنی شروع ہوئیں، پھر اور چیزیں نکلنی شروع ہوئیں اور سارا ویرانہ آباد ہو گیا۔اور کسی نے شبنم چاٹی ،کسی نے کہیں سے کچھ اور کھایا۔آسمان سے اترنے والے خوراک کے اور انتظامات جو اللہ تعالیٰ نے کر رکھے تھے، ان سے استفادہ کیا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ جنگل میں منگل ہو گیا ہے۔حشرات الارض کی بے انتہا قسمیں ہیں جو شمار میں نہیں آ سکتیں اور جو عام بڑے جانور چلنے پھرنے والے ہیں ان کی بھی اتنی قسمیں ہیں، اور ہر قسم پھر آگے اس طرح تقسیم ہو چکی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر ایک کی خوراک کا مناسب انتظام ہوتا ہے اور Waste Products کا کوئی نقصان کہیں نظر نہیں آ رہا۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک حیرت انگیز کمال۔آپ دنیا میں ایک چھوٹا سا بھی کارخانہ بنائیں تو Waste Products ایک مصیبت بن جاتی ہے وہ فضلہ جو ہر پیدائش کا لازمہ ہے۔جب کوئی چیز پیدا کرتے ہیں تو کچھ فضلہ ہو گا جو نقصان دہ ہوتا ہے اس کو کہاں