خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 655
خطبات طاہر جلد ۲ 655 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۳ء پھینکیں، کس طرح اسے ختم کریں؟ آج کے انسان کے لئے جو بڑ اخلاق بنا پھرتا ہے یہ ایک بڑی مصیبت بنی ہوئی ہے۔آئے دن ایسے واقعات پیش آ رہے ہیں کہ ایٹم کا فضلہ کہاں پھینکیں روزمرہ کارخانوں کے فضلے کا کیا کریں اور بعض علاقوں میں تو اس فضلے کے نتیجہ میں عام زندگی ہلاک ہونا شروع ہوگئی ہے۔چنانچہ امریکہ اور کینیڈا کے بعض علاقوں میں فضا میں سلفر اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ اس سے سلفیورک ایسڈ بن کر جھیلوں کے پانی کو اس نے تیزابی کر دیا اور آہستہ آہستہ اس کی تیزابیت اتنی بڑھ گئی کہ وہاں جانور مرنے شروع ہو گئے اور پھر وہی پانی جب انسان بھی پیتے ہیں تو وہ ایک زہر کا چکر چل پڑتا ہے جو ساری زندگی میں گھوم رہا ہے۔تو معمولی اور چھوٹے سے کارخانے ہیں وہ اس کارخانہ قدرت کے مقابل پر کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ نے ساری کائنات میں چلا رکھا ہے، اور ان کے Waste Producte کا مسئلہ ہی حل نہیں ہورہا کہ کیا کریں۔اور اس طرف نظر نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ نے جو کارخانہ بنایا ہے اس کا اصول یہ ہے کہ ایک کی Waste Product دوسرے کی غذا بن گئی ہے اور ایک ذرہ بھی ضائع نہیں ہو رہا، ہر چیز گھوم کر پھر واپس اس کائنات میں چلی جاتی ہے اور وہی تو ازن برقرار رہتا ہے۔آپ آکسیجن کھاتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں جو پودوں کی غذا بن جاتی ہے۔جتنے جاندار سانس لیتے وقت کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالتے ہیں وہی پودے کھا رہے ہوتے ہیں اور پودے ہیں کہ تازہ آکسیجن بنا بنا کر واپس پھینک رہے ہیں۔بے شمار جاندار ایسے ہیں جو دوسرے جانداروں کے فضلے پر پل رہے ہیں اور فضلہ اگر نہ ہوتو زمیندار خوب جانتا ہے کہ اس کی فصل پر بھی کتنا برا اثر پڑتا ہے۔اتنا حسین تو ازن ہے کہ ہر جاندار کا فضلہ کسی اور جاندار کے کام آ رہا ہے اور پھر صفائی کا انتظام بھی ساتھ ساتھ اسی طرح ہوتا چلا جا رہا ہے۔چنانچہ افریقہ کے جنگلوں میں بعض جگہوں پر جہاں ہاتھی رہتے ہیں ان سے متعلق سائنسدانوں نے تحقیق کی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے ان کا فضلہ صاف کرنے کا انتظام نہ کیا ہوتا تو وہاں فضلے کے پہاڑ بن جاتے اور پھر کوئی چیز وہاں بس نہیں سکتی تھی۔مگر چھوٹے چھوٹے کیڑے ہیں جو رات کے وقت نکلتے ہیں اور اس فضلے کے گولے بنا بنا کر اور اسے الگ الگ جا کر سوراخوں میں نیچے