خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 653

خطبات طاہر جلد ۲ 653 خطبه جمعه ۳۰ / دسمبر ۱۹۸۳ء غائب ہو چکے ہیں کہ دنیا کی باریک نظر رکھنے والوں کو بھی نظر نہیں آرہے۔چنانچہ میں نے غور کیا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس ساری کائنات میں ان گنت وجود ہیں جن کے رزق کا روزانہ انتظام ہو رہا ہے۔ہر ثانیہ انتظام ہو رہا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلَّ فِي كِتَبٍ مُّبِينِ (هود : 2 ) کہ اس زمین و آسمان میں کوئی ایک بھی جاندار ایسا نہیں جس کے رزق کا اللہ تعالیٰ نے انتظام نہ فرما دیا ہو اور پھر رزق کا ہی نہیں اس کی رہائش کا بھی انتظام فرما رکھا ہے اور خدا جانتا ہے کہ کس نے عارضی ٹھکانہ کہاں کرنا ہے اور مستقل ٹھکانہ کہاں کرنا ہے۔چنانچہ یہ جو کائنات میں پھیلے ہوئے ، جو میں اور سمندر میں اور ہواؤں میں پھیلے ہوئے جو جانور ہیں ان کی قسمیں ہی شمار میں نہیں آ سکتیں۔سمندر کے اندر جوزندگی نظر آتی ہے وہ اتنی حیرت انگیز ہے اور اس کی اتنی مختلف شکلیں ہیں اور اس طرح ان کو خدا تعالیٰ نے اپنی ضرورت کے مطابق آراستہ کر رکھا ہے اور ایسا حسین تو ازن قائم کر رکھا ہے کہ ایک پرسکون سمندر کی سطح کے نیچے ایک پوری کائنات بس رہی ہے اور ایسے سمندروں میں بھی جہاں پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہو سکتا نیچے خاص قسم کی ریت نے تہیں جما رکھی تھیں اور وہاں بظاہر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے۔اب انہوں نے غوطہ خوری کے ذریعہ ایسے سامان پیدا کر لئے ہیں کہ بعض دفعہ وہ بہت لمبے عرصہ تک صبح سے شام ، شام سے صبح تک روشنی کے آلات اور پھر بہت سے کیمرے وغیرہ لے کر وہاں پہنچتے ہیں تو انہوں نے ان سمندروں کے کناروں پر جو عرب کے ریگستان کے ساحل کے ساتھ ساتھ ہیں، یہ دیکھ کر بے انتہا حیرت کا اظہار کیا ہے کہ مثلاً ہم وہاں زمین کے نیچے سمندر کی تہ میں پہنچے توریت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔کامل خاموشی تھی ، پھر ہم نے جب آہستہ سے غور سے دیکھنا شروع کیا تو بہت سے جانور بھیس بدل کر خاموش بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کا شکار پاس سے گزرا تو وہ اس کو کھا جائیں اور انہوں نے عجیب عجیب قسم کے Camouflage کئے ہوئے تھے۔بعض کی ریت میں سے صرف آنکھیں چمک رہی تھیں ، بعض کے باز و باہر نکلے ہوئے تھے، بعض پودوں کی طرح زمین میں گڑ کے کھڑے تھے اور ان کو ہم پودے سمجھ رہے تھے ، وہ جاندار تھے اور انتظار کر رہے تھے کہ کب اللہ ان کا