خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 644 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 644

خطبات طاہر جلد ۲ 644 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء خلق کی باتیں ہوں گی۔پس یہ ثواب کا ایک موقع ہے جو جلسہ سالا نہ دکانداروں کے لئے فراہم کرتا ہے۔اس کو ثواب کمانے کی بجائے عذاب سہیڑ نے میں تبدیل کر دینا بہت بڑی غلطی ہے اس لئے دکاندار خاص طور پر ان باتوں کا خیال رکھیں۔رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ کی رضا کی خاطر آپ نے خود اپنے رزق میں کچھ کمی کی تو اللہ یہ کی نہیں رہنے دے گا۔وہ زیادہ با برکت رزق آپ کو عطا فرمائے گا، زیادہ وافر رزق عطا فرمائے گا، آپ کے روپے میں برکت ہوگی، آپ کی خوشیوں میں اضافہ ہوگا، آپ کے ایمان اور خلوص میں برکت پڑے گی اس لئے دکانداروں کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر یں۔بعض دکاندار جن کا تعلق دوائیں بیچنے سے ہے ان پر عام دکانداروں سے بھی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ بیماری کا کوئی وقت مقرر نہیں۔بعض لوگوں کو آدھی رات کے وقت تکلیف ہو جاتی ہے اور اکثر دکانیں ادویہ بیچنے والوں کی اس وقت بند ہو جاتی ہیں اور ایک دو کھلی رہتی ہیں۔یہ شکایت ملی ہے پچھلے سال بھی اور اس دفعہ دوران سال بھی کہ بعض ایسے دکاندار جورات کو دکان کھولتے ہیں وہ لوگوں کی تکلیف سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔یعنی نام تو یہ ہے کہ خدمت ہو رہی ہے لیکن خدمت کے بہانے دراصل قصابی ہو رہی ہوتی ہے، لوگوں کی کھالیں اتار رہے ہوتے ہیں اور وہ عام دوا جو پچاس روپے میں ملتی ہے وہ رات کے وقت سو روپے میں دے رہے ہوتے ہیں اور پھر ساتھ بداخلاقی سے بھی پیش آتے ہیں۔چنانچہ اس سلسلہ میں ایک دو واقعات بڑے ہی تکلیف دہ سامنے آئے۔باہر کے مریض تھے انہوں نے رات کو جا کر کہا د وادو۔دکاندار نے قیمت بتائی ، گاہک کو علم تھا کہ اتنی بڑی قیمت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ تو بڑی سستی دوا ہے۔مگر دکاندار نے کہا کہ اس وقت اسی قیمت پر ملے گی لینی ہے تو لو ورنہ جاؤ۔انہوں نے کہا مریض ہمارا مر رہا ہے کچھ خدا کا خوف کرو۔انہوں نے کہا کہ پھر جہاں سے سستی ملتی ہے وہاں سے لے لو۔غرض بڑی بداخلاقی سے وہ صاحب پیش آئے۔میں نے امور عامہ سے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ میں غور کریں۔اگر ربوہ میں ایسے دکاندار رہے تو بہت ہی بدنامی کا موجب ہوگا بلکہ ساری جماعت کے لئے تکلیف کا موجب ہوگا۔ایسے لوگوں کی دکانیں بند ہو جانی چاہئیں۔ربوہ میں اس قسم کی دکانداری کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔پس اخلاق حسنہ کا معیار بلند کریں اور خصوصاً وہ لوگ جن کا تعلق زندگی بچانے سے ہے، بیماریوں کو شفا دینے سے ہے، وہ اپنی اندرونی شفا کا تو پہلے انتظام کریں ، روحانی طور پر اس قابل تو نہیں کہ لوگوں کو شفا دینے سے ان کا تعلق قائم ہو سکے اس لئے ڈاکٹر ز بھی اور طبیب بھی