خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 645 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 645

خطبات طاہر جلد ۲ 645 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء اور دوائیں بیچنے والے بھی اس موقع پر قربانی کے معیار کو خصوصیت کے ساتھ بلند کر ہیں۔بازاروں اور سڑکوں کا کچھ تعلق گھر والوں سے بھی ہے۔گھر والے بعض دفعہ اپنے گھر کی گندگی سمیٹ کر باہر پھینک دیتے ہیں جولوگوں کے لئے تکلیف کا موجب بنتی ہے۔اس کے لئے ہم انشاء اللہ کوئی مستقل انتظام تو کریں گے اس سلسلہ میں ایک باقاعدہ مجلس بھی قائم کر دی گئی ہے جو ا نتظام کر رہی ہے اور ربوہ میں صفائی کا بہترین طریق پر منتقلاً انتظام کرنے کا ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جو سہولتیں شہروں کو میسر ہوتی ہیں انشاء اللہ ربوہ کوکم از کم ویسی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔اگر چہ وہ مہنگے ذرائع تو ہمیں میسر نہیں جو بعض ترقی یافتہ قوموں کو میسر ہیں لیکن ہر چیز کی ایک غریبانہ شکل بھی ہوتی ہے۔اصل تو یہ ہے کہ ضرورت پوری ہو۔اگر وہ بڑے لڑکوں کی صورت میں پوری نہیں ہوسکتی تو ریڑھوں اور گڑوں کی صورت میں پوری ہو سکتی ہے۔میرا مقصد یہ ہے کہ جو ضرورت کی چیزیں ہیں صفائی وغیرہ کے سلسلہ میں شہر کو اچھے طریق پر چلانے کے سلسلہ میں اس کے لئے ایک کمیٹی مقرر ہوگئی ہے جو کام شروع کر چکی ہے لیکن ایسے کاموں میں کچھ وقت لگتا ہے۔انشاء اللہ اگلے سال اس کے بہتر نتائج سامنے آچکے ہوں گے۔سر دست تو ربوہ کے مکانوں کے مالک اس طرف توجہ دیں کہ ان دنوں میں خصوصیت کے ساتھ گھر کا گند باہر نہ پھینکا جائے۔گھر کے کونے میں چند اینٹیں لگا کر ایک جگہ بنالیں یا کوئی گڑھا کھود لیں وہاں وہ گند پھینکیں اور جلسہ کے بعد جو انتظام ہوگا کمیٹی کی طرف سے یا جماعت کی طرف سے گند سمیٹنے کا اس کے ذریعے وہ گند دور کر دیا جائے گا۔اسی طرح ایک یہ تکلیف دہ امر بھی سامنے آتا ہے کہ بعض گھروں سے گانے اور فضول میوزک کی آوازیں بلند ہورہی ہوتی ہیں۔عام حالات میں قادیان میں بھی ہمیشہ سے یہ رواج رہا ہے کہ اگر کسی نے گانا سننا ہی ہے، اول تو یہ چیزیں لغویات میں سے ہیں لیکن میوزک اس مقام پر ہے جس کے متعلق واضح حرمت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا اور نہ کیا جاسکتا ہے اس لئے لغویات کے تابع اس کے متعلق ہمیشہ جماعت میں مہم جاری رہی ہے کبھی تھوڑی سی غفلت ہو جاتی ہے کبھی پھر توجہ ہو جاتی ہے۔تو جب ذراسی بھی غفلت ہو نظارت اصلاح وارشاد کی طرف سے یا مقامی انجمن کی طرف سے تو یہ آوازیں گھروں سے باہر نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔جلسے کے ایام میں دوست خصوصیت سے اس طرف توجہ کریں کہ کوئی آواز باہر گانے کی اور بے ہودہ لغو پروگراموں کی نہیں آنی چاہئے اور اندرون خانہ اس بات کی طرف توجہ کریں کہ آپ کے باہر سے مہمان