خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 643 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 643

خطبات طاہر جلد ۲ 643 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۳ء بات پہنچا دیں۔اسی طرح اگر دکاندار بداخلاقی کریں تو ان کی بھی رپورٹ کیا کریں۔عموماً جلسہ سالانہ کے گزرنے کے بعد رپورٹیں آتی ہیں اس وقت تو معاملہ عمل ختم ہو چکا ہوتا ہے، آئندہ سال کے لئے نصیحت کی جاتی ہے لیکن وہ نصیحت وقت سے پہلے ہوتی ہے یہاں تک کہ آئندہ سال تک دکاندار بھی اس کو بھول جاتے ہیں۔کچھ تو وہ وقت کے بعد بن جاتی ہے اور کچھ وقت سے بہت پہلے بن جاتی ہے اس لئے دوست ان باتوں کی فوری طور پر اطلاع دیا کریں انشاء اللہ فوری طور پر سمجھانے کی کوشش کی جائے گی۔دکانداروں کو سال میں یہ موقع ملتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سارے سال کی کمائی جلسہ سالانہ کے دوران کر لی جائے اور بعض دکاندار اس میں اخلاقی ضوابط کو لوظ نہیں رکھتے۔یعنی اخلاقی ضوابط سے مراد یہ ہے کہ باہر سے آنے والے بعض مہمان محض اخلاص کی وجہ سے ربوہ میں آ کر سودے خریدتے ہیں اور بہت سے ایسے مہمان بھی ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہاں کا دکاندار نا جائز منافع خوری کر ہی نہیں سکتا اس لئے ان کا جو بھول پن ہے وہ اس لئے نہیں کہ وہ بے وقوف لوگ ہیں ان کو خریداری کی چالاکیاں نہیں آتیں بلکہ ان کا بھول پن خالصتہ للہ ہے ان کے ایمان کے نتیجہ میں ہے۔ایسے لوگوں سے ان کے اعتبار سے ناجائز فائدہ اٹھانا ایک بہت بڑا گناہ ہے اور بعض دکاندار اس گناہ میں ملوث ہو جاتے ہیں۔چنانچہ کئی دفعہ باہر کے مہمانوں نے اطلاع دی کہ انہوں نے خالصتہ اعتماد کرتے ہوئے ایک چیز اس نیت سے یہاں سے خریدی کہ ربوہ کے دکانداروں کو فائدہ پہنچے کیونکہ یہ چندے بھی دیتے ہیں سارا سال مرکز میں بیٹھے رہتے ہیں اس لئے ان کو فائدہ ہونا چاہئے لیکن دکانداروں نے ایسی خوفناک منافع بازی کی کہ اس کا کوئی بھی جواز عقلاً نظر نہیں آتا یعنی بعض صورتوں میں ربوہ ہی کی ایک دکان پر جو چیز سوروپے میں خریدی گئی وہ دوسری دکان پر پچاس روپے میں مل گئی اب اس کے لئے کون سا اقتصادی جواز ہے؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، دو چار روپے اوپر نیچے ہو جائے تو سمجھ آنے والی بات ہے لیکن اتنا بڑا فرق تو ہو ہی نہیں سکتا سوائے اس کے بد دیانتی کی گئی ہو اس لئے دکانداروں کی ذمہ داری ہے کہ آنے والوں کے اخلاص سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ قربانی سے کام لیں۔اس موقع پر اگر وہ حسن خلق سے کام لیں گے اور منافع بڑھانے کی بجائے اللہ کی رضا کی خاطر کچھ کم کریں گے تو اس کے بہت سے نیک اثرات پیدا ہوں گے۔باہر سے تشریف لانے والے مہمان جب اس حسن خلق کو دیکھیں گے تو واپس جا کر ساری دنیا میں ربوہ کی نیک نامی کی بات کریں گے اور جو دکان کے تجربے ہیں وہ بھی بیان کریں گے۔اگر ان سے حسن خلق کا معاملہ کیا گیا تو ساری دنیا میں ربوہ کے