خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 623
خطبات طاہر جلد ۲ 623 خطبه جمعه ۹/ دسمبر ۱۹۸۳ء تھی کہ مسجد میں ہمارا پہنچنا ضروری تھا وہاں پہلے سے Appointment تھی۔بھائی ظفر جن کے ہاں میں ٹھہرا ہوا تھا ان سے میں نے کہا اب کس طرح جائیں گے۔انہوں نے کہا فکر نہ کرو تھوڑی دیر کے بعد سب سڑکیں صاف ہو جائیں گی۔ان کو اس جگہ کا تجربہ تھا۔چنانچہ بمشکل کوئی نصف گھنٹہ گزرا ہوگا کہ انہوں نے کہا باہر نکلو تو سہی۔ہم موٹر پر روانہ ہوئے تو مسجد تک پہنچتے پہنچتے سڑک پر ایک بھی درخت نظر نہ آیا۔جس طرح کیڑیاں مٹھائی پر نکلتی ہیں اس طرح لوگ آنا فانا نکلے اور سارے درخت غائب کر گئے۔پس امانت ضائع ہونے کا جو نقشہ محمد ﷺ نے کھینچا تھا وہ بھی نظر آیا کہ درخت غائب ہو رہے ہیں اور جب وہ امین آیا جس کے سپر دوبارہ امانتیں سپر د کی جانی تھیں تو مسواکیں غائب ہونا بند ہوگئیں۔کتنا فرق ہے، یہ تھا وہ وجود جسے دوبارہ امانتوں کو زندہ کرنے کا کام سپر د کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بہت چھوٹی باتوں میں احتیاط کی تعلیم دیا کرتے تھے اور بہت چھوٹی باتوں میں احتیاط فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ آپ آرام فرما رہے تھے اور سید فضل شاہ صاحب آپ کے پاؤں دبا رہے تھے تو دباتے دباتے آپ کے کوٹ کی جیب پر ہاتھ پڑا تو اندر سے ٹھیکریوں کی آواز آئی۔انہوں نے سمجھا کہ کوئی بچہ جیب میں ڈال گیا ہے، آپ کو پتہ نہیں لگا۔انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ٹھیکریاں نکالیں اور باہر پھینکنے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ کھل گئی۔آپ نے فرمایا یہ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا میں نے یہ ٹھیکریاں نکالی ہیں تا کہ باہر پھینک دوں۔آپ نے فرمایا بالکل نہیں واپس جیب میں ڈال دیں۔یہ میرے محمود کی امانت ہے وہ میرے پاس امانت رکھوا گیا تھا، واپس آئے گا پوچھے گا اور جب ٹھیکریاں نہیں پائے گا تو کہے گا یہ کیسی امانت کا حق ادا کرتے ہیں۔یعنی میرے بیٹے پر کیا اثر پڑے گا کہ ساری دنیا کو امانت کی تعلیم دے رہے ہیں اور بچے کی ٹھیکریاں بھی نہیں بچا سکے۔( اصحاب احمد جلد چہارم صفحہ۹) پس یہ وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو حقیقت میں انسان کو امانت کے راز بتاتی ہیں۔یہ ٹھیکریاں لعل و جواہر سے بڑھ جاتی ہیں جب امین کی جیب میں جاتی ہیں ، اگلی نسلوں کی امانت کی حفاظت کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو امانت کا حق ادا کر دیا۔کیا ہم اس حق کو ادا