خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 622
خطبات طاہر جلد ۲ 622 خطبه جمعه ۹/ دسمبر ۱۹۸۳ء اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہا ما فرمایا: سلام علیک یا ابراهیم انک اليوم لدينا مکین امین ( تذکره صفحه ۸۲ الہامات ۱۸۸۳) کہ اے ابراہیم نو ! اے اس نئے دور کے ابراہیم ! تجھ پر سلامتی ہو انک اليــوم لـديـنـا مکین امین اس زمانہ میں میرے حضور تو ہی مکین اور امین ہے۔پس ہم تو تجدید عہد کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لا کر دو ہری ذمہ داریوں کے نیچے آ گئے۔ہمارا تو بہت زیادہ فرض ہے کہ ہم اس امانت کے حق کو ادا کریں اور اسے مٹنے نہ دیں۔لوگ غلط فہمی سے یہ سمجھتے ہیں کہ امانت بڑی بڑی چیزوں میں تو ٹھیک ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کیا فرق پڑتا ہے حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں جو سبق سکھایا ہے وہ یہ ہے کہ امانت شروع ہی چھوٹی باتوں سے ہوتی ہے۔جو شخص چھوٹی باتوں میں امانت کا حق ادا نہیں کرتا وہ بڑی باتوں میں اس کا حق ادا کر ہی نہیں سکتا۔میں نے پہلے آپ کو ایک واقعہ سنایا تھا اب ایک اور واقعہ سناتا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ کسی نے کچھ مسواکیں پیش کیں۔آپ بہت خوش ہوئے ، کیکر کی تازہ مسواکیں تھیں، آپ نے ان کو بہت پسند فرمایا لیکن معاً پوچھا یہ کہاں سے لائے ہو۔تو مسواکیں پیش کرنے والے خادم نے عرض کیا۔حضور ! میں نے یہ فلاں کھیت میں کیکر سے کاٹی ہیں۔آپ نے فرمایا وہ تو ہمارا کھیت نہیں ہے تم نے اس کے مالک سے پوچھا نہیں اس لئے یہ مسواکیں لے جاؤ، یہ میرے لئے جائز نہیں۔(سیرۃ المہدی جلد چہارم ( غیر مطبوعہ ) روایت نمبر ۶ ۱۲۲) یہ بظاہر بڑی معمولی بات ہے کیونکہ آج کل مسواکیں تو در کنار لوگوں کے پورے کیکر ہی کاٹ لئے جاتے ہیں۔آندھیوں سے جب درخت ٹوٹتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں سب کا حق ہو گیا ہے خاص طور پر بنگلہ دیش میں، جب وہ مشرقی پاکستان تھا۔ہمیں اس کا تجربہ ہوا وہاں ایک بہت خطرناک طوفان آیا تھا۔غالبا یہ ۱۹۶۲ء کی بات ہے۔اس طوفان کی وجہ سے بے شمار درخت ٹوٹے تھے۔میں ان دنوں وہاں گیا ہوا تھا۔طوفان کے ختم ہونے کے وقت یا جب وہ نرم پڑا ہم نے باہر نکل کر دیکھا، موٹر پر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا سڑک پر قدم قدم پر درخت گرے پڑے تھے لیکن مشکل یہ