خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 621 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 621

خطبات طاہر جلد ۲ 621 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۳ء حضرت امام موسیٰ رضا کی قبر پر گئے اور دعا کی۔دعا کے بعد ملک شاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ بتاؤ تم نے کیا دعا کی تھی؟ وزیر نے جواب دیا کہ میں نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فتح نصیب فرمائے۔پھر وزیر کے پوچھنے کے بغیر انہوں نے کہا کہ جانتے ہو میں نے کیا دعا کی تھی؟ میں نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا! اگر میرے چچا زاد بھائی مجھ سے زیادہ اس امانت کے اہل ہیں کہ تیری مخلوق پر اور مسلمانوں پر حکومت کریں تو اے خدا! آج کے دن تو میری جان اور میرا تاج و تخت مجھ سے واپس لے لے میں اس کا اہل نہیں ہوں۔یہ واقعہ بیان کر کے گبن لکھتا ہے کہ ساری انسانی تاریخ میں امانت کا اس سے زیادہ روشن واقعہ کوئی پیش نہیں کر سکتا لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ جانتے ہو کیوں ایسا ہوا؟ اس لئے کہ محمد مصطفی ﷺ وہ تو صرف محمد لکھتا ہے) نے اپنی امت کو امانت کے یہ طور اطوار اور یہ ادا ئیں سکھادی تھیں اس وجہ سے ملک شاہ نے یہ دعا کی تھی۔آنحضرت ﷺ کے بعد جب آہستہ آہستہ امانت ضائع ہوگئی اور حضور اکرم کی پیشگوئیوں کے مطابق ضائع ہوئی کیونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ آئندہ جب ساعت آئے گی تو ساعت سے پہلے جو نشانیاں ہیں ان میں ایک اہم نشانی یہ ہوگی کہ امانتیں ضائع کر دی جائیں گی۔لوگ بددیانت اور خائن ہو جائیں گے جیسا کہ اس زمانہ میں ہر کسی کو یہ نظر آ رہا ہے۔ساعت کے لفظ میں خوشخبری تھی۔مطلب یہ نہیں تھا کہ فور أساعت آجائیگی اور پھر معاملہ ختم ہو جائے گا بلکہ اس ساعت کو مسیح کی آمد ثانی کے ساتھ وابستہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ روحانی قیامت آنی تھی اور یہ دراصل مسیح کے آنے کی نشانی تھی کہ جب بد دیانتی عام ہو جائے گی خیانت شروع ہو جائے گی اور امانت اٹھ جائے گی اس وقت اللہ تعالیٰ اس مسیح کو بھیجے گا جس کے ساتھ ایک ساعت کو آ جائے گی۔ایک روحانی انقلاب برپا ہو جائے گا۔مٹتا ہوا اسلام دوبارہ اجاگر ہو جائے گا۔پھر یہ دلوں میں داخل ہوگا ، پھر یہ اعمال میں جاری ہوگا اور دنیا کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے گا چنانچہ آنحضور کو خدا تعالیٰ نے امین بنایا اور روح الامین کو آپ پر نازل فرمایا۔اس کا ایک یہ بھی تقاضا تھا کہ آپ کی امانت کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔دوبارہ ایسا نظام جاری کیا جائے گا کہ یہ ٹتی ہوئی امانتیں پھر دوبارہ واپس آجائیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی الہاما امین فرمایا گیا۔