خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 571
خطبات طاہر جلد ۲ 571 خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۸۳ء بیوت الحمد سکیم میں وسعت (خطبه جمعه فرموده ۱۱/ نومبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ : حُنَفَاءَ وَ يُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزَّكُوةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (الية : ٢) قرآن کریم نے مذاہب کا جو خلاصہ بیان فرمایا ہے وہ خدا تعالیٰ کی عبادت اور بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اپنی طاقتوں کو خرچ کرنا ہے۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہی وہ دین قیمہ ہے جو قرآن کریم میں خلاصہ محفوظ کر دیا گیا ہے۔گویا دنیا کے تمام مذاہب انہی دو باتوں کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور کسی مذہب کی سچائی کی پہچان اس سے بہتر نہیں ہوسکتی کہ اس میں یہ دونوں اجزا شامل ہوں۔وہ مذہب جو خدائے واحد کی عبادت کی تعلیم نہیں دیتا اور بنی نوع انسان سے بلا امتیاز مذہب وملت ہمدردی اور پیار اور شفقت کی تعلیم نہیں دیتا وہ اس کسوٹی پر پورا نہیں اتر تا اس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ یا تو وہ شروع سے ہی جھوٹا تھا یا بعد میں اس میں جھوٹ شامل کر دیا گیا۔پس تمام انبیاء علیہم السلام جب بھی دنیا میں آئے انہوں نے اپنے ماننے والوں کو یہی تعلیم دی کہ وہ خدائے واحد کی عبادت کریں اور بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی کریں۔چنانچہ قرآن کریم ایک اور جگہ انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: