خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 572
خطبات طاہر جلد ۲ 572 خطبه جمعه ۱۱/ نومبر ۱۹۸۳ء وَجَعَلْتُهُمْ أَبِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمُ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلوةِ وَ اِيْتَاءَ الزَّكُوةِ ۚ وَ كَانُوا لَنَا عِبِدِينَ (الانبياء: ۷۴) کہ ہم نے ان سارے انبیاء کو امام بنایا تھا ایسے امام جو مہدی بھی تھے یعنی ہم سے ہدایت پا کر پھر آگے حکم جاری کرتے تھے۔وہ اپنی طرف سے ہدایتیں نہیں دیتے تھے بلکہ ہماری ہدایت کے تابع مہدی ہوتے ہوئے آگے حکم جاری فرمایا کرتے تھے اور ان سب انبیاء پر ہم نے جو وحی کی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ فِعْل الْخَيْراتِ اچھے کام کر و اقام الصلوۃ اور نماز کو قائم کرو ایتاء الزكوة اور بنی نوع انسان کی ہمدردی میں اللہ کی خاطر خرچ کرو و کانُوا لَنَا عَبدِينَ اور یہ سارے کے سارے ہماری عبادت کیا کرتے تھے۔گزشتہ سال جب اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ پانچ سوسال کے بہت ہی دردناک تعطل کے بعد سپین میں پہلی مسجد کا افتتاح کرے تو اس کے بعد حمد اور شکر کے طور پر میں نے ”بیوت الحمد کی تحریک کی کیونکہ عبادت کا بنی نوع انسان کی ہمدردی سے گہرا تعلق ہے۔چنانچہ میرے ذہن میں یہی تاثر تھا جس کی بنا پر میں نے مسجد کا شکرانہ ادا کرنے کے لئے ایک اور نیکی کی تعلیم دی تا کہ عبادت کا دوسرا پہلو یعنی خدا کی خاطر بنی نوع انسان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا اور ان کی ہمدردی کرنا یہ بھی پورا ہو جائے اور اپنے رب کے حضور شکرانے کا ایک اظہار بھی ہو جائے۔چنانچہ اب مسجد آسٹریلیا کی بنیا ڈالنے کی توفیق ملی ہے تو میں اسی تحریک کود ہرانا چاہتا ہوں۔اب یہ تحریک میرے ذہن میں نسبتاً زیادہ وسعت اختیار کر چکی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہر سال مساجد کی تعمیر کی توفیق دیتا ہی چلا جارہا ہے اور عبادت کرنے والے بھی دن بدن جماعت احمدیہ میں بڑھ رہے ہیں اس لئے عبادت کے دوسرے پہلو کا حق بھی ساتھ ساتھ اسی طرح ادا ہوتے رہنا چاہئے۔چنانچہ غربا کی ہمدردی میں جو مختلف تحریکات جماعت احمدیہ میں جاری ہیں اور ہمیشہ سے جاری ہیں ان میں ایک بیوت الحمد کا اضافہ ہو چکا ہے جس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کی ہمدردی کی یہ تعلیم مکمل ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت کا جو تصور عطا فرمایا تھا اس کا خلاصہ یہی تھا جسے آج کل کی زبان میں روٹی، کپڑا اور مکان کہتے ہیں اور یہ وہ تعلیم ہے جسے انسان