خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 569
خطبات طاہر جلد ۲ 569 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۳ء اور یہ سارا کام سارے کا سارا خودکار (Completely Automatic) بنانے کی کوشش ہورہی ہے اور تجربہ بھی کیا گیا ہے۔امید ہے کہ اس سال اسے بہت سارے لنگروں میں داخل کر دیا جائے گا اور آہستہ آہستہ ہم پیڑے والیوں اور روٹی والیوں کی خدمات سے مستغنی ہوتے چلے جائیں گے۔روٹی کی کوالٹی میں بہت بڑی خرابی اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ پیڑے بنانے والی کوئی موٹا اور کوئی پتلا بنا رہی ہے جبکہ مشین میں ایک آنچ رکھی ہوئی ہے۔کہیں سے زیادہ وزنی روٹی اور کہیں سے کم وزنی روٹی گزررہی ہے اس سے کہیں روٹی جل جاتی ہے اور کہیں سے کچھی رہ جاتی ہے۔تو یہ ساری دقتیں آٹومیشن (Automation) کے ذریعہ دور ہو سکتی ہیں جب خود کار مشینیں کام کریں گی جو پیڑا بھی بنارہی ہوں اور روٹی کو شکل بھی دے رہی ہوں تو انشاء اللہ یہ ساری وقتیں دور ہو جائیں گی۔مجھے ایک امکان نظر آ رہا ہے خطرہ کہنے لگا تھا خطرہ تو نہیں امکان ہے۔وہ یہ ہے کہ اگر مہمان زیادہ آجائیں تو ہو سکتا ہے کہ موجودہ انتظام نا کافی ہو۔ایسی صورت میں ہمیں گھروں میں کچھ زائد انتظامات کے ساتھ تیار رہنا چاہئے۔ایسے گھر جنہیں خدا تعالیٰ نے توفیق دی ہے وہ پہلے بھی کوشش کرتے ہیں کچھ مہمانوں کا بوجھ وہ خود ہی اٹھاتے ہیں اور صرف ایک حصہ ہے جو لنگر خانہ کی طرف منتقل ہوتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی احتیاطاً تیار رہنا چاہئے کہ اگر انہیں یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنے مہمانوں کو تین یا چار وقت کا کھانا خود دینا ہے تو وہ اس کے لئے راشن پہلے سے تیار رکھیں اور یہ سسٹم بھی بنا کر رکھیں کہ کس طرح سے روٹی مہیا کی جائے گی۔ایسی صورت میں مہمانوں کو بھی خدمت میں بے تکلفی سے اپنے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے اس میں کوئی عار کی بات نہیں ہے۔پاکستان سے جو لوگ انگلستان وغیرہ جاتے ہیں تو ایسے ملکوں میں بڑی خوشی سے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور آپس میں مل جل کر بھائی بہنوں کی طرح گزارہ کرتے ہیں۔پس آنے والے بھی ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو کر آئیں کہ اگر کسی گھر میں ان کی خدمات کی ضرورت ہو روٹی پکانے ، سالن بنانے کے سلسلہ میں یا پھر برتن دھونے کے معاملہ میں تو وہ سارے مل کر گزارہ کریں گے۔جہاں تک راشن کا تعلق ہے وہ آپ چند دنوں کا زائد رکھ لیں۔آپ خدا تعالیٰ کی خاطر جو راشن زائد خریدیں گے وہ آپ کے باقی راشن میں برکت دے گا اور سارے سال کے خرچ میں