خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 562

خطبات طاہر جلد ۲ 562 خطبه جمعه ۲۴ نومبر ۱۹۸۳ء قیام ہے اور اگر اس میں ہم کمزوریاں دکھانے لگیں گے تو اس جلسہ کا کیا فائدہ اور پھر باہر سے آنے والے آپ سے سیکھنے کے لئے آتے ہیں۔انتظامات میں مشغول بچوں کو نماز کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھانا چاہئے بلکہ سارے اہل ربوہ کو بہترین معیار دکھانا چاہئے اور پھر اس پر قائم رہنا چاہئے۔عبادت تو کوئی دکھاوے کی چیز نہیں ہے، مراد صرف اتنی ہے کہ آنے والے نیک نمونہ پکڑیں اور اس کے بعد ہمیشہ کے لئے وہ پاک اور نیک نمونہ آپ کی زندگی کا جزو بنا رہے۔پس عبادت پر بہت زور دینے کی ضرورت ہے کہ کم سے کم ہمارے کارکنوں کا معیار نہایت اعلیٰ ہو۔دوسرا حصہ ہے زبان کی صفائی اس میں گالی، سخت کلامی ، غصہ میں آ کر اپنے جذبات کو کنٹرول نہ کر سکنا، یہ ساری چیزیں مہمان نوازی کے تقاضوں کے بھی خلاف ہیں اور عام اخلاقی تقاضوں کے بھی اس لئے کارکنوں کو ابھی سے اپنے ذہن میں یہ جگالی کرتے رہنا چاہئے کہ ہم میں کون کون سی کمزوری ہے جو میزبان کی شان کے خلاف ہے اور جو عام حالات میں انسان کی شان کے بھی خلاف ہے۔تو ان کمزوریوں کو دور کرنا چاہئے۔تیسری چیز دل کی صفائی ہے۔جب تک دل میں مہمان نوازی نہ ہو، جب تک دل مہمان کی محبت سے از خود نہ بھرے میزبانی کے اسلوب اور سلیقے نہیں آ سکتے۔آپ کسی کو جتنا چاہیں سکھائیں اگر اس کے دل میں مہمان نوازی نہیں ہے، محبت کا جذبہ نہیں ہے تو سیکھے ہوئے کی ادائیں اور ہوں گی اور جو دل سے پھوٹتی ہیں وہ ادائیں بالکل اور ہوتی ہیں، ان میں ایک عجیب بے اختیاری پائی جاتی ہے۔اگر آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مہمان نوازی کے واقعات پڑھیں تو ہر واقعہ اور ہر لفظ پر دل گواہی دیتا ہے کہ یہ دل سے پھوٹی ہوئی مہمان نوازی ہے۔اس میں تصنع یا کسی قسم کی بناوٹ کا دخل نہیں۔پس ہمیں یہی نمونہ اپنانا چاہئے اور بچوں، بڑوں،عورتوں ، مردوں سب کو سمجھانا چاہئے کہ مہمان نوازی کیا ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں میں نے یہ سوچا ہے کہ مختلف تنظیموں کی طرف سے مہمان نوازی سے متعلق ایسے واقعات جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے تعلق رکھتے ہوں یا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہم نے ان کو دوبارہ اجاگر ہوتے دیکھا ہو ان پر مشتمل مضامین کثرت سے پھیلائے جائیں۔مساجد میں پڑھے جائیں، بچوں کو سنائے جائیں، چھوٹے چھوٹے مضامین گھروں میں تقسیم