خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 563
خطبات طاہر جلد ۲ 563 خطبه جمعه ۴ / نومبر ۱۹۸۳ء کئے جائیں اور یہ ایک سلسلہ چل پڑے کہ مہمان نوازی کیا ہوتی ہے اس میں ہمارے اعلیٰ مقاصد کیا ہیں ؟ جب تک ہم انہیں حاصل نہیں کریں گے ہم اس کا حق ادا نہیں کر سکیں گے۔جہاں تک بیرون ربوہ کی خدمات کا تعلق ہے وہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ بہت سارے کاموں کے شعبے ایسے ہیں جن میں ربوہ کے کارکنان مہیا نہیں ہو سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کام اتنے تیزی سے پھیل رہے ہیں اور آنے والوں کی تعداد مقامی آبادی کی نسبت سے اس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ربوہ کے کارکنان ہر قسم کی خدمات خود ہی کر سکیں اس لئے ہمیشہ سے تو نہیں لیکن اب چند سالوں سے بیرون ربوہ کارکنان بھی اپنے آپ کو خدمات کے لئے پیش کرتے ہیں انصار بھی اور خدام بھی۔تو انہیں میں مطلع کر رہا ہوں کہ اب وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اس لئے یہ خطبہ سنتے ہی جلد از جلد اپنے نام بھجوانا شروع کر دیں۔اندازہ ہے کہ سات سو بیرونی کارکنان کی ضرورت ہوگی لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ اگر جلسہ پر آنے والوں کی تعداد اسی نسبت سے بڑھے جس طرح ہر سال کم و بیش بڑھتی ہے اور اگر اس نسبت میں اضافہ ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اچانک اس تعداد کو بڑھائے تو پھر مزید کارکنوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے اس لئے اگر سات سو کی ضرورت ہے تو ہمیں ہزار پر تسلی پانی چاہئے۔لہذا انتظامیہ یہ کوشش کرے کہ ہزار بیرونی کارکنان کی فہرستیں مکمل ہو چکی ہوں اور ان کے کام بھی معین ہو چکے ہوں۔ایک حصہ گھروں کو آرام دہ بنانے سے متعلق ہے۔اس سلسلہ میں سب سے پہلے تو ابھی سے صفائیاں شروع ہو جانی چاہئیں اور چھوٹی چھوٹی مرمتیں بھی شروع ہو جائیں۔ہر انسان اپنی توفیق کے مطابق مرمتیں کرتا ہی رہتا ہے لیکن مرمت کا یہ موقع سب سے اچھا ہے کیونکہ اس میں آپ اللہ تعالی کے مہمانوں کی خاطر مرمت کریں گے اور آپ کی یہ مرمت عبادت بھی بن جائے گی۔آپ کے گھر کی بھی مرمت ہو رہی ہوگی اور ساتھ ہی آپ کے دل اور روح کی بھی مرمت ہو رہی ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس میں بھی برکت بخش رہا ہوگا۔پس اس لئے اس نیت سے مرمت کریں کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر آنے والے مہمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان بھی کہلاتے ہیں ان کے لئے زیادہ سے زیادہ آرام مہیا ہو۔اس سلسلہ میں بسا اوقات جو دقتیں پیش آتی ہیں ان میں سے ایک بستروں کی کمی ہے۔