خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 561 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 561

خطبات طاہر جلد ۲ 561 خطبه جمعه ۴ / نومبر ۱۹۸۳ء عادتیں لے کر بھی آتے ہیں۔یہ تو ناممکن ہے کہ ایک سوسائٹی کلیتہ پاکیزگی کے بہترین معیار تک پہنچ جائے اس لئے ہمیں علم ہے کہ یہ واقعات ہوتے ہیں یعنی نہایت ہی اعلیٰ مخلص بچے بھی ملتے ہیں، ان میں سے بعض کمزور بھی ہوتے ہیں، بعض کو گالی دینے کی عادت ہوتی ہے، بعض دفعہ ایسے بھی واقعات ہوئے کہ ایک بچے نے دوسرے بچوں کی کوئی چیز چوری کر لی۔تو یہ ایسے واقعات نہیں ہیں کہ جنہیں ہم دنیا سے چھپائیں ، یہ حقائق ہیں اور ہمیں قرآنی تعلیم کے مطابق حقائق کے ساتھ جڑ کر رہنا ہے، اسی میں ہماری زندگی ہے۔قرآن کریم کی عظمت اور حوصلہ دیکھیں ، ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جب کہ انسانیت اپنے معراج کو پہنچی ہے اور مکارم الاخلاق پر فائز انسان جو انسان کامل تھا اس نے تربیت کی ہے تو اس وقت کے مدینہ کی کمزوریوں کے حالات بھی ہمارے لئے ریکارڈ کر دیئے اور بتایا کہ منافقین کیا کر رہے ہیں ، کہاں گندگی ہو رہی ہے اور کیا کیا غلاظتیں ہورہی ہیں اور جو لوگ سورج کی روشنی سے محروم رہے تھے ان سے متعلق قرآن کریم نے یہ بتانے میں کوئی عار محسوس نہیں کی کہ انہوں نے اپنے لئے اندھیرا اختیار کیا۔پس سورج کی روشنی کی موجودگی میں بھی ان لوگوں کے لئے اندھیرے قائم رہے جنہوں نے خطرات اور بند کمروں میں روشنی کو اپنے لئے پسند نہیں کیا۔پس ربوہ کی سوسائٹی تو حضرت محمد مصطفی علیہ کے غلام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کردہ سوسائٹی ہے اس لئے آقا سے بڑھ کر روحانی انقلاب کا دعویٰ تو کیا ہی نہیں جاسکتا یہ ناممکن ہے اس لئے وہ حقائق جو قرآن نے نہیں چھپائے ان پر پردہ ڈالنے کا کوئی موقعہ نہیں یہ تو بے مقصد اور لغو بات ہوگی۔پس ہم محض اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کریں گے بلکہ جو کمزور ہیں انہیں بھی نمایاں کریں گے اور متنبہ کریں گے اور ان کی اصلاح کی کوشش کریں گے کیونکہ قول سدید کے بغیر اصلاح ناممکن ہے۔میں نے جو کمزوریاں اپنے انتظامات کے دوران جو مختلف موقعوں پر مختلف رہے ہیں، دیکھیں ان میں سے بعض باتیں میں کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ابھی سے نو جوانوں کی تربیت شروع کر دی جائے۔گھروں میں بار بار یہ باتیں ہوں کہ اس جلسہ پر ان میں سے کوئی بات بھی نہیں دوہرانی چاہئے۔مثلاً بعض بچے نماز میں کمزوری دکھاتے ہیں۔ہماری زندگی کا تو مقصد ہی عبادت کا