خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد ۲ 534 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء گا جو اس نیت سے سفر اختیار کرتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے مواقع تلاش کریں۔اسی معنی کا دوسرا پہلو یہ بنے گا کہ وہ لوگ جو رضائے باری تعالیٰ کی خاطر سفر اختیار کرتے ہیں خواہ وہ مشرق کی طرف منہ کریں یا مغرب کی طرف وہ دیکھیں گے کہ انہیں مشرق میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل رہی اور مغرب میں بھی۔رضائے باری تعالیٰ کوئی محدود چیز نہیں اللہ تعالیٰ اس رضا کو اپنے بندوں کے لئے وسعت دیتا چلا جاتا ہے۔پس وہ اللہ کی رضا کو نئے نئے رنگ میں ظاہر ہوتا دیکھیں گے اور خدا تعالیٰ اسے وسعت دیتا چلا جائے گا۔کس حد تک کس کے لئے اور کتنی وسعت دینی ہے ان امور کا فیصلہ فرمانا خدائے علیم کا کام ہے۔نیت جتنی صاف اور پاک ہو گی، جذبہ جتنا گہرا اور شدید ہوگا، ارادے جتنے بلند ہوں گے، علیم خدا انہی کی نسبت سے اپنے خدمت کرنے والوں بندوں کے لئے مواقع بھی وسیع کرتا چلا جائے گا اور اپنی رضا کے اظہار میں بھی وسعت اختیار فرما تا چلا جائے گا۔حالیہ سفر جو اسلام کی خدمت کی نیت سے خالصتاً لوجہ اللہ اپنے دل کو صاف اور پاک کرتے ہوئے ہم نے یعنی میں اور میرے ساتھیوں نے اختیار کیا اس میں اس آیت کے یہ دونوں مفہوم ہم پر خوب اچھی طرح روشن ہوئے۔باوجود اس کے کہ آجکل کے زمانہ میں بکثرت خط و کتابت کے ذریعہ Telecommunication اور اخبارات کے ذریعہ دنیا کی خبریں ہر جگہ پہنچ رہی ہیں اور باوجود اس کے کہ ان علاقوں میں ہمارے مبلغین اور اگر وہ نہیں تو ایسے احمدی ان علاقوں میں موجود ہیں کہ جو اپنے جائزہ اور مطالعہ کے مطابق مرکز سلسلہ کو ہمیشہ مطلع رکھتے ہیں کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔خدمت دین کے کون سے مواقع میسر ہیں اس لئے بظاہر تو اس سفر کے ذریعہ کوئی نئی راہیں نظر نہیں آنی چاہئیں کیونکہ ہر جگہ احمدی آنکھ موجود ہے، ہر جگہ نظام جماعت موجود ہے اور ہر احمدی کے ذہن میں جو خدمت دین کا موقع ابھرتا ہے اس کی اطلاع مرکز کو کرتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود قرآن کریم نے جب یہ فرمایا کہ جب بھی تم للہ سفر اختیار کرو تو رضائے باری تعالیٰ کے نئے مواقع بھی تمہیں میسر آئیں گے اور اللہ ان مواقع میں وسعت دیتا چلا جاتا ہے تولازماً یہ حقیقت پوری ہونی تھی۔چنانچہ ہم نے اس سفر میں یہی دیکھا کہ ربوہ میں رہتے ہوئے یا پاکستان میں بیٹھے ہوئے جو باتیں وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتی تھیں کہ اللہ کی خدمت کے یہ نئے راستے ہیں وہ ہم پر کھلتے چلے گئے۔سنگار پور میں جہاں سے ہم نے سفر کا آغاز کیا وہاں بھی بالکل نئی نئی راہیں سامنے آئیں اور