خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 533

خطبات طاہر جلد ۲ 533 خطبه جمعه ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء دورہ فجی کے حالات کا تذکرہ ( خطبه جمعه فرموده ۲۱ اکتوبر ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیت قرآنی تلاوت فرمائی: وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرہ:۱۲) اور پھر فرمایا: + قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے مختلف رنگوں میں مومنوں کو خوشخبریاں دے رہی ہے۔اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے لئے ہیں پس خواہ تم مشرق کی طرف منہ کر دیا مغرب کی طرف تم ہر جگہ وجہ اللہ کو حاصل کر سکتے ہو۔اللہ وسعت دینے والا اور خوب جاننے والا ہے۔وجہ اللہ کے معنی کئی طرح سے کئے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر میں جو معانی اخذ کر رہا ہوں ان سے مراد رضائے باری تعالیٰ ہے۔پس ایک معنی اس آیت کریمہ کا یہ بنے گا کہ مشرق اور مغرب دونوں اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اسی کی ملکیت ہیں پس وہ مومن جو رضائے باری تعالیٰ کے حصول کی خاطر نکلتے ہیں خواہ وہ مشرق کی طرف منہ کریں یا مغرب کی طرف، انہیں دونوں جگہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے مواقع میسر آئیں گے۔اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ اللہ تعالیٰ ان مواقع کو وسعت دیتا چلا جائے گا اور ان لوگوں پر خدمت دین کی نئی نئی راہیں کھولتا چلا جائے