خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 488 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 488

خطبات طاہر جلد ۲ وتعا 488 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۳ء ) جن سوسائٹیوں کو کینسر ہو جاتے ہیں ، جن سوسائٹیوں میں شرک داخل ہو جاتا ہے وہاں بالکل الٹ نظارہ آپ کو نظر آتا ہے۔کسی کو سکھ پہنچے تو لوگوں کو تکلیف ہونے لگ جاتی ہے۔آگ لگ رہی ہوتی ہے کہ اچھا اس کو کیوں زیادہ دولت مل گئی ہے، اس کو کیوں زیادہ چین مل گیا ہے اور اس میں کیڑے ڈالے جاتے ہیں کسی کو دکھ پہنچے تو بہت خوش ہورہے ہوتے ہیں کہ بڑا مزہ آیا۔ویسے کہتے تو یہی ہیں کہ ہمیں بہت ہمدردی ہے تمہارا فلاں رشتہ دار مر گیا ہے، تمہاری موٹر کو آگ لگ گئی یا تمہارے مکان کو کسی نے تباہ کر دیا اور چسکے لے رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں بھی اس کو سنانے کا موقع ملا ہے۔یہ ہے بگڑی ہوئی سوسائٹی کی شکل جس میں وحدت نہیں ہوتی۔پس آنحضرت ﷺ نے مثالیں دے دے کر اس مسئلہ کو تفصیل سے سمجھایا ہے اور ان خطرات کی طرف توجہ دلائی ہے جو وحدت کو توڑتے ہیں۔ان میں ایک غیبت ہے یعنی ایک دوسرے کی چغلی کھانا۔یہ عجیب خوفناک بیماری ہے۔ایک مجلس لگی ہوگی عورتیں سہیلیوں کی طرح بیٹھی ہوں گی ایک دوسرے سے بڑی محبت کا اظہار کر رہی ہوں گی اور ساتھ ہی جو بہنیں وہاں موجود نہیں ہوں گی ان کے متعلق برائیاں بھی کر رہی ہوں گی اور ساری سوسائٹی یہ سمجھ رہی ہوگی کہ ہم سب تو دوست ہیں لیکن وہ بڑی گندی عورت ہے جو باہر ہے، وہ یوں کرتی ہے اور وہ یوں کرتی ہے۔اور ایک عورت اٹھ کر باہر جائے تو سب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہنسیں گی اور کہیں گی یہ بھی ایسی ہے بلکہ اس سے بھی گندی ہے اور دیکھو کیسی باتیں کر رہی تھی حالانکہ یہ خود بڑی خطرناک ہے۔تیسری اٹھ کر واپس چلی جائے تو اس کے خلاف باتیں ہونے لگتی ہیں اور وہ تین جو باہر نکلیں گیں ایک دوسرے کے خلاف جاکر باتیں کریں گی کہ شکر ہے ہم وہاں سے نکل آئے وہ تو بڑی گندی سوسائٹی تھی۔دوسروں کے خلاف بڑی بڑی باتیں کرنے والیں تھیں اپنا حال دیکھو، اپنی بہو کا حال دیکھو، اپنی بیٹی کا حال دیکھو۔چنانچہ قرآن کریم نے اس کو بڑی اہمیت دی ہے حالانکہ بظاہر سب سے معمولی برائی نظر آتی ہے۔منہ سے بات کی ہے کسی کو چیرہ نہیں ماری۔لیکن قرآن کریم کے نزدیک یہ بہت خطرناک بیماری ہے۔یہ تو حید کو کھا جانے والی بیماری ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاؤ۔(الحجرات :۱۳) اب آپ اس مثال پر غور کریں تو انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔جتنا اس پر غور کرتے ہیں اتنی ہی زیادہ طبعیت اس پر عش عش کر اٹھتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا