خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 489
خطبات طاہر جلد ۲ 489 خطبه جمعه ۲۳/ ستمبر ۱۹۸۳ء کلام ہے اس میں اس سے بہتر مثال نہیں دی جاسکتی تھی۔مردہ بھائی اپنے آپ کو Defend نہیں کر سکتا۔مردہ بھائی کی مثال ویسے ہی ہے جیسے کوئی شخص آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر چلا جائے۔پھر اس کے خلاف جو مرضی باتیں کریں اس کی کیا طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو Defend کرے لیکن ی اتنی ہی مکر وہ بات ہے جیسے مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے اور کسی مردار کا گوشت کھانا ویسے ہی آپ کو بہت عجیب لگتا ہے اور پھر آپ کا اپنا بھائی !!! تو فرمایا خدا کی نظر میں جو تمہارا بھائی ہے اس کی غیبت کرتے ہو تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تم اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتے ہو۔جہنم کیا چیز ہے؟ وہ انہی باتوں کا تصویری نمونہ ہے جو مرنے کے بعد ملے گا۔وہاں جو عجیب و غریب خوفناک نقشے دکھائے گئے ہیں وہ اسی دنیا کی حرکتوں کی در اصل تصویریں ہیں۔یہ تصویریں ہمیں بعض دوسرے جانوروں میں بھی نظر آتی ہیں اور مرنے کے بعد ان میں ہی سے ہم خود بھی گزر سکتے ہیں اگر ہم ان حرکتوں سے باز نہ آئے۔مگر قرآن کریم نے بتا دیا ہے کہ چغل خوروں کی یہ جہنم ہوگی۔مرنے کے بعد وہ ایسے عذاب میں مبتلا ہوں گے گویا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہے ہوں گے اور کھاتے چلے جائیں گے۔اس وقت انہیں پتہ لگے گا کہ وہ کیا حرکتیں کرتے تھے چنانچہ اس مثال پر آپ مزید غور کر کے دیکھیں تو پھر مزید باتیں آپ کو سمجھ آئیں گی۔یہ جو مردار خور جانور ہیں یہی گوشت کھاتے ہیں مثلاً چھیلیں ہیں، گدھیں ہیں اور دوسرے اس قسم کے جانور جو مردوں کا گوشت کھانے پر خاص طور پر مقرر ہیں۔وہ دوسروں کا بھی گوشت کھاتے ہیں اپنوں کو بھی کھاتے ہیں۔ان کے حالات پر آپ غور کریں تو وہ ساری دنیا سے کٹ کر الگ ہو چکے ہوتے ہیں۔عملا ساری دنیا کی زندگی نے ان سے بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔وہ نہ باغ میں چہچہاتے ہوئے نظر آئیں گے، نہ جنگلوں کی زینت بنیں گے دوسرے جانوروں کی طرح کسی نہ کسی چوٹی کے اوپر جا کر اکیلے زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں ، صرف اس وقت اکھٹے ہوتے ہیں جب مردار ہاتھ آجائے ورنہ اکھٹے ہو ہی نہیں سکتے۔سارے گدھوں اور سارے مردار خور جانوروں کی نہ آواز میں کوئی رونق ہے نہ ان کی شکل میں کوئی زینت ہے نہایت منحوس قسم کی چیزیں ہیں اور تنہائی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔پس حضرت رسول کریم ﷺ نے جب قرآنی آیات کی تفسیر کرتے ہوئے غیبت سے ڈرایا ہے تو یہی بتایا ہے کہ اس طرح تم تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔غیبت کرنے والے بالآخر قرآن کی اس آیت