خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد ۲ 487 خطبه جمعه ۲۳/ ستمبر ۱۹۸۳ء اتنا نہ نکا لیں تب بھی مصیبت اور اگر زیادہ نکالنا شروع کر دیں تب بھی مصیبت۔جوز زیادہ نکالنا شروع کر دیں تو کہتے ہیں جسم Dehydrate ہو گیا۔بدن کے سارے نظام پر ایک مصیبت آجاتی ہے اور اگر کم نکالیں تو خون Hydroscopic ہو جاتا ہے۔پانی سے بھر جاتا ہے دل پھول جاتا ہے جسم پھول جاتا ہے سارا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔انسانی جسم کا ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جو دوسرے سے تعاون چھوڑ دے اور بدن کے سارے نظام کو تکلیف نہ پہنچے۔اس کو وحدت کہتے ہیں اور وحدت تعاون سے قائم ہوتی ہے تعاون تو ڑیں گے آپ کو آگ دکھائی دے گی۔بعض مریض واقعتہ یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں آگ لگ گئی ہے ، وہ کہتے ہیں ہم پر پانی ڈالو۔چنانچہ شدید سردی کے موسم میں بھی وہ لوگ جن کو کینسر ہو جاتا ہے اگر برف کے پانی بھی ان پر گرائے جائیں تب بھی وہ چین محسوس نہیں کرتے۔ہوتا کیا ہے جسم کے ایک حصے نے دوسرے سے تعاون چھوڑ دیا ہوتا ہے۔مثلاً ہمارے اندر جتنی غذا جاتی ہے اس کے حصے مقرر ہیں کہ کتنا حصہ دانت میں جائے گا کتنا حصہ ٹوٹے ہوئے اعضا کے درست کرنے کے لئے استعمال ہوگا۔کتنا خون کی Growth کے لئے استعمال ہوگا۔اگر آپس میں تعاون اٹھ جائے اور کوئی ہڈی کہے کہ ساری خوراک میں نے ہی کھا جانی ہے تو وہ ہڈی بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔پھر ڈاکٹر جو مرضی کریں اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے اسی کا نام ہڈی کا کینسر ہے۔اگر خون کے ذرے زیادہ کھانے لگ جائیں تو اپنی طاقت سے زیادہ کھانے لگ جاتے ہیں۔وہ کچا خون بنا بنا کر پھینک رہا ہوتا ہے۔کہتے ہیں ہم تم سے تعاون نہیں کریں گے۔ہمارا داؤ زیادہ لگ گیا ہے ہم کھاتے جائیں گے اور اس سے خون میں ایسی شدید گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ جو سارے جسم کو آگ لگا دیتی ہے۔پس تو حید کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان پر خدا کی ایک وحدت موجود ہے اور آپ نے اس کو مان لیا اور چھٹی ہوگئی۔یہ بیوقوفوں والا تصور ہے۔یہ کسی اور مذہب میں ہو تو ہو اسلام میں نہیں ہے۔اسلام تو بڑی تفصیل سے مثالیں دے دے کر بیان کرتا ہے کہ توحید کیا چیز ہے۔انسان کی ساری کائنات کی طرف توجہ دلاتا ہے انسان کی موت اور زندگی کے نظام کی طرف توجہ دلاتا ہے پھر جسم کی طرف اشارہ کر کے بتاتا ہے کہ اس قسم کی تو حید چاہئے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی تو حید اس کو کہتے ہیں کہ ایک پاؤں کو بھی ذرا سا کانٹا چھے تو سارا جسم بے چین ہو جائے اور بدن کے کسی حصے کو راحت ملے سارا جسم راحت محسوس کرتا ہے۔( صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تر ام المومنین