خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد ۲ 485 خطبه جمعه ۲۳ ستمبر ۱۹۸۳ء ہو اپنے بھائی سے اور اس کو نیچا سمجھتے ہو تو پھر تمہیں یہ وہم ہے کہ تم تو حید کے پجاری ہو۔پھر تو تم نے الگ الگ رسیاں پکڑ لیں ، پھر تم تو ایک خدا کے قائل نہیں رہے۔فرماتا ہے۔دیکھو ساری کائنات جس کو اختیار نہیں ہے غلط راستے پہ جانے کا ، اس میں توحید قائم ہے۔تمہیں اختیار دیا تھا موت اور زندگی کے درمیان، اس لئے دیا تھا کہ تم زندگی کی طرف مائل ہو اور پہلے سے بڑھ کر زیادہ حسن اختیار کرو۔اگر تم ٹھو کر کھاؤ گے ، اگر تم اس فلسفہ کو نہیں سمجھو گے تو پھر رفتہ رفتہ تم موت کا شکار ہو جاؤ گے۔تمہیں موت پر غالب آنے کے لئے پیدا کیا گیا تھا موت سے مغلوب ہونے کیلئے تمہیں پیدا نہیں کیا گیا۔یہ ہے قرآن کریم کا پیغام جو ہر مسلمان کو دیا گیا ہے۔اور جس طرح تو حید کے مطلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مشرک ہو اس کا ٹھکانہ آگ ہے جہنم ہے، بالکل اسی طرح مسلمان سوسائٹی کو جو شخص اختلاف میں مبتلا کرتا ہے اس کے لئے بھی قرآن کریم نے جہنم کا لفظ بیان فرمایا ہے اور اس کی جزاء آگ بتائی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا ( آل عمران : ۱۰۴) کہ اے مسلمانو! دیکھو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ نے جب تک تمہیں ایک وجود نہیں بنادیا اس سے پہلے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو کر آگ کے کنارے پر کھڑے تھے تم اس آگ میں کسی وقت بھی گر سکتے تھے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں بھی شرک کا انجام آگ ہے اور آخرت میں بھی شرک کا انجام آگ ہے۔جو تو میں ایک دوسرے سے لڑ پڑتی ہیں وہ خود آگ میں داخل ہو جاتی ہیں اور اس آگ سے ان کو کوئی نہیں بچا سکتا۔یہ کئی قسم کی آگ ہے۔ایک تو ایسی آگ ہے جو ان کی ترقی کو ساری طاقتیں کھا جاتی ہے، ان کے دل کا چین اڑادیتی ہے۔سوسائٹی میں لطف کے بجائے نفرت کا ایک ماحول پیدا ہو جاتا ہے جس میں آدمی جلتا اور کڑھتا رہتا ہے۔جس سے نفرت کی جائے وہ بھی مارا جاتا ہے اور جو نفرت کرتا ہے وہ بھی مارا جاتا ہے۔تو ہر وہ چیز جو آپ کی سوسائٹی کو مشرک سوسائٹی میں تبدیل کر دیتی ہے وہ گناہ ہے۔وہ ایسی خطرناک چیز ہے جس سے آپ کو بچنا چاہئے اور قرآن کریم صرف بچنے کی ہدایت ہی نہیں دیتا بلکہ تفصیل سے سمجھاتا بھی ہے اور آنحضرت ﷺ اس کی ہمارے سامنے تشریح بیان فرماتے ہیں اور ایک ایک بار یک نکتہ بتاتے ہیں کہ تم اپنی سوسائٹی کو شرک سے کس