خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 484 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 484

خطبات طاہر جلد ۲ 484 خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۸۳ء نصیب ہوئی آنکھیں عطا کی گئیں۔غرضیکہ سار کی زندگی کی جدوجہد پر آپ نظر ڈال کر دیکھ لیں اس کا خلاصہ قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے۔تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌةٌ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وہ بڑی مبارک ذات ہے اور وہ ایک ہی ہے اس کے ہاتھ میں ہر نظام کی چابیاں ہیں، ہر چیز کی باگ دوڑ اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ جو چیزیں تمہیں ناممکن نظر آتی ہیں وہ ان پر بھی قادر ہے۔چنانچہ اس نے یہ حیرت انگیز نظام پیدا کیا کہ موت اور زندگی کو لڑا دیا اور اس کے نتیجہ میں حسن عمل پیدا ہونا شروع ہوا۔پہلے سے زیادہ بہتر چیزیں وجود میں آنی شروع ہوئیں۔تو دو خدا کس طرح ہو گئے۔ایک ہی خدا ہے، جس کا ایک خاص مقصد ہے اور وہ مقصد ایک سنگل مقصد ہے، اس میں توحید پائی جاتی ہے، حسن عمل ہے۔تو آپ ساری کائنات میں جس طرف بھی نظر ڈالیں گے اگر آپ غور سے دیکھیں گے ، گہری نظر سے دیکھیں گے تو توحید کے سوا آپ کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔یہی تو حید ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور مسلمان معاشرہ میں دیکھنا چاہتا ہے، وہ ایک وجود بن جائے۔محض خیال میں وہ ایک خدا کو پوجنے والا نہ رہے بلکہ واقعاتی طور پر دنیا میں بھی ایک ہی سوسائٹی ظاہر ہو جو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک وجود بن جائے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو مختلف شکلوں میں بیان فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوْا ( آل عمران :۱۰۴) کہ دیکھو جب تم نے ایک خدا کو پکڑا ہے تو دو چار چار رسیاں کیوں پکڑو گے۔باقی رسیاں تو پھر شیطان کی رسیاں ہیں کیونکہ ایک خدا کی تو ایک ہی رہی ہے اس لئے اس رسی کو پکڑو جو تمہارے واحد خدا کی رسی ہے دوسری طرف توجہ نہ کرو۔وَلَا تَفَرَّقُوا کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے سوا دوسری رسیوں کی طرف مائل نہ ہو جانا وہ تمہیں غلط طرفوں میں لے جائیں گی۔توحید کے قائل ہو تو اپنے نظام میں دنیا میں تمہیں تو حید دکھانی پڑے گی۔اگر ایک خدا کے پجاری ہو تو تمہاری سوسائٹی میں وحدت نظر آنی چاہئے۔اگر اس کے بجائے تمہارے اندر اختلاف پائے جاتے ہیں، تم ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہو، ایک دوسرے کی برائیاں چاہتے ہو ،لڑائیوں کے لئے بہت تیزی دکھاتے ہو، تکبر کرتے