خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 462

خطبات طاہر جلد ۲ 462 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء إلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ پس تو اب لوگوں کے دل بھی مائل کر دینا۔یہ زمین تو کچھ نہیں اگاتی لیکن ساری زمینیں تیری ہیں جو اگاتی ہیں۔تو اگر چاہے تو سب کے پھل دوڑتے ہوئے اس کی طرف چلے آئیں۔پس دنیا کی زمینیں جو پھل اگائیں گی میری دعا یہ ہے کہ اس زمین کی طرف ان کا رخ پھیر دینا اور یہاں رہنے والوں کو یہ شکوہ نہ رہے کہ انہیں بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرع میں آباد کیا گیا تھا اور اے خدا! إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ میں نے بہت بڑے دعوے کئے ہیں کہ یہ سب کچھ تیری خاطر کر رہا ہوں لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ بعض ایسی باتیں بھی ہیں جو مجھے نہیں معلوم اپنے دل کی اور تو ان کو بھی جانتا ہے اس لئے انسانی دعوے کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔آخر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو عاجزانہ بات کی ہے وہیں جا کر تان ٹوٹتی ہے کہ إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ تو جانتا ہے کہ ہم جسے چھپائے ہوئے ہیں اور جسے ظاہر کر رہے ہیں وَمَا يَخْفى عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاء اور اللہ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔پس جماعت احمدیہ کو ان دو مساجد سے جن کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی اول بیت اور اخر المساجد سے سبق لینا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ یہ مساجد محض عبادت کی خاطر تعمیر کی گئی تھیں۔اگر ہم ساری دنیا میں مساجد آباد کرنے کا پروگرام بنالیں، اگر خدا ہمیں توفیق دے کہ براعظم آسٹریلیا کا کیا سوال ہے ہر ہر شہر اور ہر ہر بستی میں مساجد بنائیں لیکن اگر مساجد بنانے والوں کے دل تقویٰ سے خالی ہوں اور وہ خود خدا کے گھروں کو آباد کرنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں ، اگر ان کے اندر وہ ابراہیمی صفت نہ ہو اور آنحضرت علی کی عبادات کا رنگ نہ ہو، وہ خالص نیتیں نہ ہوں جو اللہ کے لئے خالص ہو جایا کرتی ہیں، وہ زیتیں نہ ہوں جو یخنیں لے کر متقی خدا کے گھروں تک پہنچا کرتے ہیں پھر ان گھروں کی تعمیر کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتی۔یہ سارے سفر بے کار ہیں اور یہ سارے پیسے ضائع کئے جارہے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں اس لئے جماعت احمد یہ ہر دفعہ جب کوئی مسجد بناتی ہے تو ایک نئے عزم کے ساتھ ہمیں عبادت پر قائم ہو جانا چاہئے۔میں اس یقین کے ساتھ ملک سے باہر جاؤں کہ جماعت احمدیہ میں جو پہلے عبادت میں کمزور تھے اب وہ عبادت میں اور زیادہ مضبوط ہو گئے ہیں اور جو پہلے عبادت کرتے تھے وہ پہلے سے بھی بڑھ کر عبادت کا حق ادا کرنے لگے ہیں۔مجھے وہاں یہ محسوس ہو کہ جماعت اپنی عبادت میں اس طرح ترقی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور