خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 463
خطبات طاہر جلد ۲ 463 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء رحم کی نظریں ہم پر پڑ رہی ہیں۔آپ کی عبادت ہی ہے جس نے اس پروگرام کو رونق بخشی ہے، آپ کی عبادت ہی ہے جو اس پروگرام میں خلوص اور سچائی بھر دے گی ورنہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا تو اس سے بہت بڑی بڑی مسجد میں بنا رہی ہے ان کے مقابل پر ہماری مسجد کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔آپ خلوص نیت کے ساتھ عبادت پر قائم ہو جائیں، عبادت کا حق ادا کرنا سیکھ لیں اپنی بیوی اور بچوں کو نمازیں پڑھائیں اور سمجھ کر نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں۔اللہ تعالیٰ کا پیار اور محبت پیدا کریں پھر دیکھیں کہ جس طرح اس پہلے گھر کی طرف لوگوں کے دل مائل ہو گئے تھے اسی طرح خدا کے اس نئے گھر کی طرف اہل آسٹریلیا کے دل مائل ہو جائیں گے۔پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو اس گھر میں آنے سے روک نہیں سکے گی اور وہ ویرانہ یعنی آسٹریلیا جو روحانی لحاظ سے ویران پڑا ہوا ہے وہاں خدا کی عبادت کی خاطر ہم جو گھر بنانے والے ہیں اس کی مثال بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس گھر سے ملتی جلتی ہے، وہ ظاہری طور پر بھی ویران جگہ تھی اور روحانی طور پر بھی لیکن آسٹریلیا روحانی طور پر کلیہ ویران ہے اس لئے دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیکی اور خلوص اور ہماری عبادت کی سچی روح کو قبول فرمائے اور کثرت کے ساتھ دلوں کو اس گھر کی طرف مائل کر دے جو ہم وہاں بنانے لگے ہیں اور یہ گھر ایک نہ رہے بلکہ اس گھر کے نتیجہ میں پھر وہاں ہزاروں لاکھوں کروڑوں گھر بنیں اور ہر گھر خدا کی عبادت سے بھرتا چلا جائے۔یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے ، یہی ہماری جنت ہے، اللہ تعالیٰ کی یہی وہ رضا ہے جو ہمیں نصیب ہو جائے تو ہم سمجھیں گے کہ ہم دنیا میں کامیاب ہو گئے اور ہماری زندگی کا مقصد پورا ہوگیا۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: آج کے اس جمعہ کے لئے چونکہ بکثرت مسافر باہر سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور انہوں نے واپس جانا ہو گا اس لئے جمعہ کی نماز کے ساتھ ہم نماز عصر جمع کریں گے۔دوست جمعہ کی نماز کے بعد عصر کی نماز کے لئے بھی صفیں بنالیں۔جمعہ کی نماز کے آخری سجدہ میں خصوصیت کے ساتھ آسٹریلیا میں مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر کی کامیابی کے لئے اور اسے اس تمام علاقے میں اسلام کا نور پھیلانے کا موجب بننے کے لئے دعائیں کریں۔روزنامه الفضل ربوه ۸ ستمبر ۱۹۸۳ء)