خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 460 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 460

خطبات طاہر جلد ۲ 460 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء - اگر دلیل ڈھونڈتے ہو تو اس کے عاشق بن جاؤ اس کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے۔دنیا کا محبوب ظاہر ہو چکا ہے۔محمد ہست برہان محمد محمد اپنی آپ دلیل ہے۔سب سے زیادہ شاندار دلیل آپ کی صفات حسنہ ہیں آپ کی قوت قدسیہ ہے اور وہ سب کو پاک کرتی ہے اور پھر انہیں الہی رنگ چڑھانے کے لئے تیار کرتی ہے۔چنانچہ یہ دعا تھی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک چھوٹے سے کھنڈر کے اوپر جس کو بڑی محنت سے آپ نے تلاش کیا الہی ہدایت کے مطابق ، ورنہ وہ کھنڈر تلاش بھی نہیں ہونا تھا۔آپ کوئی جغرافیہ دان نہیں تھے، کوئی کمپاس آپ کے پاس نہیں تھی ، خواب دیکھی اور بیوی بچے کو لے کر چل پڑے اور اس زمانہ میں سینکڑوں میل کا سفر اختیار کیا اور پھر ایک جگہ ساحل سمندر پر آپ نے اونٹ وغیرہ چھوڑے اور وہاں سے پھر پیدل نکلے ہیں اور واپس اس حال میں لوٹے ہیں کہ نہ بیوی ساتھ تھی نہ بچہ ساتھ تھا ایک تو کل تھا اللہ تعالیٰ پر اور یقین تھا کہ یہ وہ گھر ہے جو سب گھروں سے زیادہ شاندار بننے والا ہے۔پس ظاہری تعمیر کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایسی ایسی حکومتیں ہیں جو خدا کے گھر بنارہی ہیں کہ ہمارے صد سالہ منصوبے پر جتنی رقم خرچ ہونی ہے اس سے کئی گنا زیادہ رقم وہ ایک مسجد کی تعمیر پر لگا دیتی ہیں یعنی ہمارا صد سالہ منصوبہ دس کروڑ کا تھا اور اس میں سے ابھی تک نصف کے قریب رقم وصول ہوئی ہے یعنی ساری جماعت کی غریبانہ کوششوں کا یہ حال ہے اور دوسری طرف یہاں اس ملک میں بھی ایسی مساجد عطیہ کے طور پر بنائی گئی ہیں جن کے اوپر ایک ارب روپے سے زیادہ لاگت اٹھ رہی ہے اور بعض کئی کئی ارب روپے کی ڈیزائن ہو رہی ہیں۔پس جہاں تک ظاہری شان و شوکت کا تعلق ہے ہم تو اس میدان کے کھلاڑی ہی نہیں ہیں ، نہ اس سے ہمیں کوئی فرق پڑتا ہے۔لوگ کہتے ہیں دیکھو فلاں نے کتنی شاندار مسجد بنوائی ہے، ہم کہتے ہیں ٹھیک ہے بہت شاندار بنوائی ہوگی لیکن ہمیں تو وہ شان چاہئے جس پر اللہ کے پیار کی نظر پڑے جسے خدا کے انبیاء کا دستورالعمل شاندار قرار دے اور وہ شاندار عمارت تو جیسا کہ میں نے بتایا بڑی غریبانہ حالت میں تعمیر ہوئی تھی۔دوسری طرف ایک اور عمارت تھی اگر یہ اول المساجد تھی تو وہ آخر المساجد کہلائی اور وہ مسجد نبوی تھی جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ میں تعمیر فرمائی اور اس مسجد کی شان بھی سن لیجئے کہ کیا تھی۔گھاس پھوس کی چھت تھی ، فرش پر کوئی ٹائل نہیں تھے کوئی پختہ اینٹیں نہیں تھیں۔