خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 459
خطبات طاہر جلد ۲ 459 خطبه جمعه ۲ ستمبر ۱۹۸۳ء نفس ہو پھر یہ کتاب آگے بڑھائے گی۔اور جن کا دل پاک نہیں ہے، جو گندے لوگ ہیں ان کو اس کتاب سے کچھ بھی نہیں ملنا، وہ یہ سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ان کا مقام وہ نہیں ہے، ان کی ڈگریاں اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو اس عظیم الشان کالج میں داخل کیا جائے جو حضرت محمد مصطفی ملالہ کا مکتب ہے۔صلى الله اس کے علاوہ شان محمد مصطفی ﷺ ایک اور طرح بھی ظاہر فرمائی ہے۔فرمایا یہ وہ رسول نہیں ہے جو یہ انتظار کرے گا کہ تعلیم دے اور پھر تمہارا تزکیہ کرے۔اس میں عظیم الشان قوت قدسیہ ہے۔ان پڑھوں میں سے آیا اور انہی میں آیا، ان پڑھوں میں پیدا ہوا اور ان میں سے ایک تھا۔یہاں سے بات شروع ہوئی ہے اور فرماتا ہے يُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ تعلیم بھی دے گا کتاب بھی سکھائے گا مگر یہ تو لمبا عرصہ ہے ان پڑھوں کو کہاں تک تعلیم دی جائے کہاں تک ان کے تزکیہ کا انتظار کیا جائے۔فرمایا یہ اتناعظیم الشان رسول ہے اورایسی عظیم الشان قوت قدسیہ ہے اس کی کہ اس کو ملنا، اس کو دیکھنا ہی پاک ہونے کے مترادف ہے اور پہلے پاک کرے گا پھر پڑھائے گا اور تعلیم دے گا۔دوسرے معنوں میں اس کتاب والے مضمون کو ایک اور رنگ میں پیش فرمایا اور بتایا کہ یہ ایسا رسول ہے جو خود ہی کپڑوں کو دھوتا بھی ہے کیونکہ اس نے رنگ ڈالنا ہے۔جس طرح ایک اچھا رنگ ریز ایسے رنگ کے متعلق جو ہر کپڑا پکڑ نہیں سکتا پہلے اس کے داغ صاف کرتا ہے۔اس رنگ کو قبول کرنے کے لئے پہلے اسے اچھی طرح تیار کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حمد مصطفیٰ علی ہے تمہیں جو رنگ دینے آئے ہیں وہ ہر کپڑے پر چڑھ نہیں سکتا لیکن اب تم مطالبہ کرو گے کہ ہم کیسے تیار ہوں تو فرمایا محمد مصطفی ﷺ سے تعلق پیدا کر لو، یہ خود تمہیں صاف کرے گا، خود تیار کرے گا، وہ دلوں کو پاکیزگی بخشے گا جس کے بعد پھر اسلام کی تعلیم سمجھ آسکتی ہے اور اس کی حکمتیں سمجھ آسکتی ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے وہ شعر کہا جسے آپ کے شدید ترین دشمن بھی سنتے تھے تو سر دھنتے تھے اور بعض نے اپنی مساجد پر اس شعر کو لکھوایا کہ اگر خواهی دلیلے عاشقش باش محمد صلى الله برہان محمد ( در تمین فارسی صفحه ۱۴۱) کہ اے محمد مصطفی ﷺ کی صداقت کی دلیل ڈھونڈنے والے کیا تم نے کبھی سورج کی دلیل بھی ڈھونڈی ہے ، سورج تو اپنی صداقت کی دلیل آپ ہوا کرتا ہے یہ تو ایسی سچائی اور پاکیزگی کا سورج چڑھ گیا ہے کہ پہلی مرتبہ دنیا میں یہ واقع ہوا ہے کہ یہ حسن کامل اپنی دلیل خود لے کر آیا ہے اس لئے تم